یونانی معیشت: وزیرِاعظم کی طرف سے لچک کا مظاہرہ

میرا کبھی بھی یک طرفہ طور پر فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا: یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمیرا کبھی بھی یک طرفہ طور پر فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا: یونانی وزیرِ اعظم تسیپراس

یونانی وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ قرض دہندگان کے ساتھ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

تسیپراس نے بلوم برگ خبررساں ادارے کو ایک بیان میں بتایا کہ ان کا کبھی بھی یک طرفہ طور پر فیصلہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔

جرمن چانسلر انگلیلا میرکل نے قرض کے خاتمے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرض دہندگان نے پہلے ہی رعایتیں دے رکھی ہیں۔

گذشتہ ہفتے تسیپراس کی جماعت سریزا نے انتخابات جیتنے کے بعد عہد کیا تھا کہ وہ آدھا قرض معاف کروا لیں گے۔

یونان کے نئے وزیرِ خزانہ یانس واروفیکس نے اس ’تکون‘ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا جس نے گذشتہ یونانی حکومت کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے لی 270 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔

اس تکون میں یورپی کمیشن، یورپی سینٹرل بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف شامل ہیں۔

2012 میں کچھ قرض دہندگان نے بعض قرضے معاف کر دیے تھے لیکن اس کے باوجود یونان پر اس کی کل قومی پیداوار سے 175 فیصد زیادہ قرض ہے۔

تسیپراس نے کہا کہ یونان یورپی سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف کو قرض ادا کر دے گات اور یورو زون کی ممالک کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا۔

انھوں نے کہا: ’یورپی شراکت کاروں کے ساتھ بات چیت شروع ہو گئی ہے۔

اس مسئلے پر اختلافات موجود ہیں، لیکن مجھے بھرپور اعتماد ہے کہ ہم کسی باہم مفید معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جس کا یونان اور یورپ دونوں کو فائدہ ہو گا۔‘

یورو زون کے وزرائے خارجہ کی تنظیم کے چیئرمین جیرون دیسلبلوئم نے تسیپراس کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اب یہ یونانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے پر پیش رفت کے لیے اپنا موقف واضح کرے۔‘

ہفتے کو روز جرمن میڈیا میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں انگلیلا میرکل نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یونان یوروزون ہی میں رہے، تاہم وہ ’مزید قرضے معاف ہوتے نہیں دیکھ رہیں۔‘

’پہلے ہی نجی قرض دہندگان نے رضاکارانہ طور پر قرض معاف کر رکھے ہیں، اور بینکوں نے پہلے ہی اربوں کے قرض چھوڑ دیے ہیں۔‘