یونان سے قرض ادا کرنے کی توقع رکھنا ’غیرحقیقی‘ ہے

انتخابات کی فاتح جماعت 270 ارب ڈالر کی اس رقم کی شرائط پر ازسرِ نو بات کرنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی قرض دہندگان نے یونان کی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے دیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنانتخابات کی فاتح جماعت 270 ارب ڈالر کی اس رقم کی شرائط پر ازسرِ نو بات کرنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی قرض دہندگان نے یونان کی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے دیا تھا

یونانی انتخابات کی فاتح جماعت سریزا کے معاشی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونان سے اس بات کی توقع رکھنا کہ وہ اپنا قرض مکمل طور پر ادا کر دے گا غیرحقیقی ہے۔

یوکلڈ تساکالوٹوس نے کہا کہ ’ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ یونان قرض ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

سریزا بائیں بازو کی کٹر جماعت ہے اور وہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ وہ 270 ارب ڈالر کی اس رقم کی شرائط پر ازسرِ نو بات کرنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی قرض دہندگان نے یونان کی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے دیا تھا۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے یونان کی نئی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ قرض کی شرائط کی پاسداری کرے۔

سریزا کے سربراہ الیکسس تسیپراس نے پیر کے روز ملک کے وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ توقع ہے کہ وہ منگل کو نئی کابینہ کا اعلان کریں گے۔

تساکولوٹوس نے کہا: ’میں آج تک کسی ایسے معاشیات دان سے نہیں ملا جو آپ کو بتائے کہ یونان اپنا تمام قرض ادا کر دے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو یہ دکھانا ہو گا کہ وہ سریزا کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں: ’اگر وہ یہ عندیہ دیتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری طریقے سے منتخب شدہ حکومت کے ساتھ بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تو یورپ بہت عجیب اور بہت خطرناک جگہ بن جائے گی۔

’یہ آخری اشارہ ہو گا کہ یہ ایک ایسا یورپ ہے جو جمہوری اور سماجی تبدیلی کو ہضم نہیں کر سکتا۔‘

بی بی سی کے معاشی مدیر رابرٹ پیسٹن کہتے ہیں کہ اگر یوروزون کے ساتھ سریزا کے مذاکرات کامیاب ہو گئے تو دوسرے یورپی ملکوں میں موجود کفایت شعاری مخالف جماعتیں ووٹروں کو زیادہ قابلِ اعتماد لگنے لگیں گی۔ لیکن اگر دوسری طرف مذاکرات ناکام رہے تو یونان یوروزون سے الگ ہونے کے قریب پہنچ جائے گا اور سرمایہ کار کسی بھی ایسے ملک سے اپنا سرمایہ کھینچ لیں گے جہاں قوم پرست جماعتوں کا غلبہ ہے۔

یونان کو مالیاتی بحران سے نکالنے میں تین قرضہ دہندگان نے اہم کردار ادا کیا تھا، یورپی یونین، یورپین سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف۔ انھوں نے قرض دینے کے بعد اپنی رقم کی وصولی کے لیے یونان کے بجٹ میں کٹوتیاں کر دی تھی اور اس کی معیشت کی ڈھانچے میں تبدیلیاں عائد کر دی تھیں۔

اسی دوران یورپی یونین کمیشن کے صدر ژان کلاؤد ژنکر نے خبردار کیا ہے کہ یونان کو قرض کی شرائط میں کسی کسی نرمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

جرمن حکومت کے ترجمان سٹیفان سائبرٹ نے بھی کہا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ یونان ’معاشی بحالی کے اقدامات جاری رکھے۔‘