یونان نادہندہ نہیں بنے گا: نئے یونانی وزیرِ اعظم

،تصویر کا ذریعہAP
یونان کے نئے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ ان کا ملک نادہندہ نہیں بنے گا۔
بائیں بازو کی کٹر جماعت سریزا کے رہنما نے منتخب ہونے کے بعد کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قرض دہندگان سے 270 ارب ڈالر کے قرض پر ازسرِنو بات چیت کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی پہلی ذمہ داری ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جنھیں مدد کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے معاشی بحالی کے لیے ’قابلِ عمل تجاویز‘ پیش کرنے اور بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یورپی یونین نے یونان کی نئی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کی پابندی کرے۔
تسیپراس نے کہا: ’ہم باہمی تباہی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، تاہم ہم غلامی کی حکمتِ عملی بھی جاری نہیں رکھیں گے۔‘
یونان کو تین قرض دہندگان نے معاشی بحران سے نکالا تھا، یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک اور آئی ایم ایف۔ انھوں نے اپنی رقم کی وصولی کے لیے یونان پر شرائط عائد کی تھیں جن میں بجٹ میں کٹوتی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلیاں شامل تھیں۔
تسیپراس نے یونان کے وقار کا دفاع کرنے کے عزم کے ساتھ کہا کہ یونان کے قرض کی شرائط پر نئے سرے سے بات چیت سے ’ایک قابلِ عمل، منصفانہ، اور باہمی فائدہ مند حل ڈھونڈا جائے گا۔‘ البتہ انھوں نے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
اس سے قبل یونانی حکومت کے معاشی ترجمان یوکلڈ تساکالوٹوس نے کہا تھا کہ اس بات کی توقع رکھنا غیرحقیقی ہے کہ یونان اپنا بھاری قرض مکمل طور پر ادا کر پائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







