تارکینِ وطن کا بحران، یورپی یونین کے نئے اقدامات

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے کہا کہ دس نکات پر مشتمل ایک پیکیج لکسمبرگ میں مذاکرات کے نتیجے سامنے آیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے کہا کہ دس نکات پر مشتمل ایک پیکیج لکسمبرگ میں مذاکرات کے نتیجے سامنے آیا

یورپی یونین نے بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ٹرائٹن پیٹرولنگ سروس بہتر بنائی جائے گی اور انسانی سمگلروں کی کشتیاں تباہ کرنے کے لیے فوج کو اختیار دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ افریقہ سے یورپ پہنچنے کے لیے کوشاں تارکینِ وطن کی بحیرۂ روم میں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافے کے بعد اس معاملے پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔

جنوبی یورپ کے کئی ممالک کا موقف ہے کہ یہ ہلاکتیں یورپی یونین کی ساکھ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں کیونکہ یورپی ممالک کی تنظیم نے ہی گذشتہ برس تارکینِ وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے بحیرۂ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیر کو لکسمبرگ میں منعقدہ اجلاس کے بعد یورپی یونین نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے نئے پیکیج کا اعلان کیا۔

تنظیم کے نئے منصوبے کے تحت ٹرائٹن پیٹرولنگ سروس کو مضبوط کیا جائے گا اور انسانی سمگلروں کی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے فوج کو اختیار دیا جائے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے کہا کہ دس نکات پر مشتمل ایک پیکیج لکسمبرگ میں مذاکرات کے نتیجے سامنے آیا اور یہ ’حالیہ سانحات کے نتیجے میں سامنے آنے والا ایک زبردست ردِ عمل ہے، جس سے ’ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے سیاسی عزم اور کوششیں تیز کرنے کا اظہار ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بالآخر ہم یورپی سطح پر انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے مکمل یورپی سطح پر متحد ہورہے ہیں۔‘

انسانی سمگلر لیبیا میں جاری سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہیں اور اسے ایسے تارکینِ وطن کے لیے کشتیوں کے سفر کا مقامِ آغاز بناتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک میں جاری تشدد کے نتیجے میں فرار ہونا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانسانی سمگلر لیبیا میں جاری سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہیں اور اسے ایسے تارکینِ وطن کے لیے کشتیوں کے سفر کا مقامِ آغاز بناتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک میں جاری تشدد کے نتیجے میں فرار ہونا چاہتے ہیں

اس اقدامات میں فرنٹ ایکس کے لیے مالیاتی وسائل میں اضافے کے اقدامات بھی ہیں جو یورپی یونین کے بحیرۂ روم کے بچاؤ کی سروس ٹرائٹن چلاتی ہے اور ٹرائٹن کے آپریشنل علاقے کو بڑھانے کے اقدامات بھی ہیں۔

ٹرائٹن کے دائرہ کار کے بارے میں یورپی یونین پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جس نے بڑے پیمانے پر کام کرنے والے اطالوی مشن ماری نوسٹرم کی جگہ گذشتہ سال کام شروع کیا تھا۔

اس ’سویلین اور فوجی‘ آپریشن جس کے پاس انسانی سمگلروں کی کشتیوں کو تباہ کرنے کا اختیار ہو گا جس کے لیے یورپی کونسل کی منظوری درکار ہے۔

اس کے علاوہ اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں

  • اسائلم کی درخواستوں کی مشترکہ منظوری کے عمل کو بہتر بنانا شامل ہے جس کے تحت درخواست دائر کرنے کے دو مہینوں کے اندر اُن پر فیصلہ کیا جائے گا
  • تمام تارکینِ وطن کے انگوٹھوں کے نشانات کا حصول اور ان کے ریکارڈ کی تیاری
  • یورپی سطح پر تاکینِ وطن کی بحالی کا منصوبہ جو کہ رضاکارنہ ہو گا
  • واپسی کے سفر کی پیشکش
  • اہم ممالک میں امیگریشن کے تعاون کے اہلکاروں کی تیعناتی

موگرینی نے زور دے کر کہا کہ لیبیا میں بھی کارروائی کی ضرورت ہے جہاں ’سرحدوں کی نگرانی اور کنٹرول کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔‘

انسانی سمگلر لیبیا میں جاری سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہیں اور اسے ایسے تارکینِ وطن کے لیے کشتیوں کے سفر کا مقامِ آغاز بناتے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک میں جاری تشدد کے نتیجے میں فرار ہونا چاہتے ہیں۔