یورپی کمیشن کی تارکینِ وطن کے لیے ’متنازع تجاویز‘

تارکین وطن کے لیے ای یو کوٹا کا خیال بحیرہ روم میں ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر آیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتارکین وطن کے لیے ای یو کوٹا کا خیال بحیرہ روم میں ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر آیا

یورپی کمیشن یورپی یونین کے ممالک کو تارکین وطن کو ای یو کوٹا سکیم کے تحت رکھنے کے لیے ایک متنازع تجاویز پیش کرے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک 60 ہزار سے زائد لوگ بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لیبیا میں انسانی حقوق کی ’خوفناک خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے تارکین وطن ایسے خطرناک سفر پر مجبور ہوتے ہیں۔

لبیا کا انتباہ

دوسری جانب اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’یورپی کمیشن کی بحیرۂ روم سے انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروپ کے خلاف فوجی قوت کے استعمال کی تجاویز کو مسترد کر دے گا۔‘

لیبیا کے سفیر ابراہیم دبّاشی نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی یونین نے اپنے منصوبے کے بارے میں لیبیا سے بات چیت نہیں کی ہے اور یہ تجاویز پیر کو دیر گئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی توثیق کے بغیر سمگلروں کے خلاف بین الاقوامی بحری حددو میں کارروائی قانونی حیثیت نہیں رکھے گی۔

رواں سال 60 ہزار افراد نے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرواں سال 60 ہزار افراد نے بحیرہ روم کے راستے یورپ آنے کی کوشش کی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ لیبیا میں قانونی چارہ جوئی کی عدم موجودگی میں مالکان منظم طور پر ملازموں کا استحصال کرتے ہیں اور انھیں خطرناک سفر پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

رواں سال اب تک بحیرۂ روم کے راستے ترک وطن کی کوشش کرنے والوں میں 1800 افراد کی موت ہو چکی ہے جو کہ گذشتہ سال اس مدت میں ہونے والی اموات کا 20گنا ہے۔

یورپین کمیشن کی مائگریشن کی پالیسی کا اعلان بدھ کو کیا جائے گا جس میں یورپ آنے والے لوگوں کے لیے جائز طریقوں کی تجاویز بھی ہوگی تاکہ وہ انسانی سمگلروں کے ہاتھ نہ لگیں۔

ان سب کے باوجود یہ بات قابل غور ہے کہ ابھی اس پر یورپی یونین میں شامل ممالک کو رضامند ہونا باقی ہے۔

یورپی رہنما ان تجاویز پر جون میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں گفتگو کریں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک بحیرۂ روم کے راستے ترک وطن کی کوشش کرنے والوں میں 1800 افراد کی موت ہو چکی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک بحیرۂ روم کے راستے ترک وطن کی کوشش کرنے والوں میں 1800 افراد کی موت ہو چکی ہے

بی بی سی کے یورپ ایڈیٹر کٹیا ایڈلر کا کہنا ہے کہ اس کی منظوری بظاہر آسان نظر نہیں آتی کیونکہ برطانیہ اس کا سرے سے ہی مخالف ہے۔

ہر ایک ملک کے لیے کوٹا (یا تارکین وطن کو قبول کرنے کی تعداد) کا تعین کئی باتوں پر منحصر ہوگا جن میں ملک کی آبادی، معاشی اشاریہ اور پہلے کتنے پناہ گزینوں کو پناہ دی گئی ہے وغیرہ شامل ہیں۔

جرمنی اس خیال کی سنجیدہ حمایت کرتا ہے جہاں گذشتہ سال دو لاکھ پناہ چاہنے والوں نے درخواست دی تھی۔

یہ تجاویز تارکین وطن کے بحیرۂ روم میں ڈوب کے مرنے کو روکنے کے پیش نظر دی جا رہی ہیں تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا زور متبادل فراہم کرنے پر ہے۔

ایمنسٹی کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ڈائرکٹر فلپ لوتھر نے کہا: ’محفوظ متبادل راستے کی عدم مجودگی میں سمگلروں سے نمٹنے کے طریقوں کے تعارف سے لیبیا میں جاری جنگ سے بھاگنے کے لیے سب کچھ کر گزرنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ سمگلروں کے خلاف فوجی کارروائی سے تارکین وطن لیبیا کے خطرناک حالات میں گھر کر رہ جائیں گے۔