لیبیا کا سمگلروں کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی پر اعتراض

،تصویر کا ذریعہAP
لیبیا نے یورپی یونین کی اقوام متحدہ سے بحیرۂ روم کے ذریعے انسانی سمگلنگ میں افراد کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یورپی یونین کی پالیسی چیف فیڈیریکا موغرینی طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کرنے کا کیس پیر کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کیا ہے۔
لیبیا میں اقوام متحدہ کے سفیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے طاقت کے استعمال کے ایک غیر واضح عمل کی اجازت طلب کرنا ان کے لیے باعث پریشانی ہے۔
یورپی یونین چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ اسے لیبیا کی سمندری حدود میں پناہ کے متلاشی افریقی باشندوں کو یورپی ممالک تک پہنچانے والے سمگلروں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دے۔
اقوام متحدہ سے اجازت ملنے کے بعد یورپی یونین لیبیا کی سمندری حدود میں سمگلروں کی کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ یا روک سکے گے۔
یورپی یونین کی جانب سے ان اقدامات کی اجازت طلب کرنا بحیرۂ روم کے ذریعے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کے سمندر میں ڈوبنے کے واقعات کو ختم کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال 60 ہزار افراد بحیرۂ روم کے ذریعے یورپ آنے کی کوشش کر چکے ہیں جن میں سے 18 سو سے زائد افراد ڈوب چکے ہیں۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ ہے۔
ان پناہ گزینوں میں سے بڑی تعداد شام، اریٹریا، نائیجیریا اور صومالیہ جیسے شورش زدہ اور غریب ممالک سے ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپی یونین ان پناہ گزینوں کو ڈوبنے سے بچابے کے لیے ریسکیو سروسز میں بھی اضافے کے علاوہ یورپی ممالک میں ان پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا کوٹہ بھی متعارف کروانے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی کمیشن بدھ کو اپنے اجلاس میں اس کوٹے اور پناہ گزینوں کے قانونی طریقے سے یورپ آنے کی کئی تجویز پیش کرے گا۔ اس کا مقصد پناہ گزینوں کا غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخلے کو روکنا ہے۔
البتہ کئی یورپی ممالک کوٹہ سسٹم کی تجویز کی سخت مخالف ہیں اور اس پر اتفاق رائے ہونا ابھی باقی ہے۔
یورپی یونین کی پالیسی چیف فیڈیریکا موغرینی طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کرنے کا کیس آج پیر کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کیا ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال ہونے کشتیوں کی نشاندہی کر کے اسے نشانہ بنائیں گے تا کہ انھیں پناہ گزینوں کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
تاہم اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر ابراہیم دباشی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کا ملک یورپی یونین کی تجویز کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین نے لیبیا سے اس بارے میں کوئی رائے طلب نہیں کی۔ انھوں نے اس بارے میں ہمیں ابھی تک اندھیرے میں رکھا ہوا ہے کہ وہ ہماری سمندری حدود میں کس قسم کی فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ سب ہمارے لیے پریشان کن ہے۔‘
لیبیا کے سفیر کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا پسند کریں گے کہ یورپی یونین مچھیروں اور سمگلروں کی کشتیوں کے درمیان کیسے فرق کرے گی؟







