’بحیرۂ روم میں مشقیں، سٹرٹیجک تبدیلی ہیں‘

ان مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے روس بھی چین اور ماسکو کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات مغربی ممالک کو دکھا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنان مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے روس بھی چین اور ماسکو کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات مغربی ممالک کو دکھا سکتا ہے
    • مصنف, جوناتھن مارکس
    • عہدہ, نامہ نگار سفارتی امور، بی بی سی

روس اور چین کی افواج بحیرۂ روم میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشق کر رہی ہیں جو ایک ہفتے تک جاری رہیں گی۔ان مشقوں میں چین کے دو فیراگیٹ میزائل بردار جہاز اور رسد فراہم کرنے والا ایک جہاز حصہ لے رہا ہے۔

مشقوں میں روس کے چھ جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ جن میں حفاظتی امور ، سمندر میں رہتے ہوئے ذخیرہ کرنا، حفاظتی دستوں اور گولہ باری کی مشق کی جائیں گی۔

اس سے قبل چین کے جنگی جہاز نے یورپ کی جانب سے جنگ عظیم دوئم میں کامیابی کے جشن کے موقع پر بحیرۂ اسود میں روس کی بحری اڈے کا دورہ تھا۔

حالیہ کچھ برسوں کے دوران روس بحیرۂ روم میں اپنی موجودگی دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کافی حد تک کم ہوئی گئی تھی۔

اس وقت روس کی بحیرۂ روم میں موجودگی محض شام کی بندگارہ طرطوس تک ہی محدود ہے اور روس طرطوس کی بندگارہ کو شام کے صدر بشار الاسد کی بدولت ہی جدید بنا سکتا ہے۔

بحیرۂ روم میں جاری اس مشق کے لیے مزید جہاز روانہ کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب روس کے بجائے چین کے لیے روایتی طور پرر بحیرۂ روم میں سٹرٹیجک خدشات کم تھے لیکن حالیہ برسوں کے دوران بیجنگ کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ برسوں میں دو مرتبہ خطے میں عدم استحکام کے صورت میں چین کی بحریہ نے لوگوں کے انخلا میں مدد کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں دو مرتبہ خطے میں عدم استحکام کے صورت میں چین کی بحریہ نے لوگوں کے انخلا میں مدد کی ہے

خطے کی معیشت میں چین کا نمایاں ہوتا کردار اور تجاتی مقاصدکے لیے بحری راستوں کو محفوظ بنانے کی وجہ سے چین پر توجہ بڑھ گئی ہے۔

ان مشقوں میں شامل چین کے بحری بیڑے اس سے پہلے خلیج عدن میں بحری قزاقوں کے خلاف کثیرالملکی نگرانی کی مہم میں شامل رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں دو مرتبہ خطے میں عدم استحکام کی صورت میں چین کی بحریہ نے لوگوں کے انخلا میں مدد کی ہے۔

سال کے اوائل میں چین کے جہازوں نے یمن میں محصور ہزاورں چینیوں کو علاقے سے نکالا اور سنہ 2011 میں لیبیا میں انقلاب کے وقت بھی ایسا ہی ایک آپریشن کیا گیا تھا۔خلیج عدن میں اقتصادی فائدوں کے علاوہ بھی چین چاہتا کہ بین الاقوامی سطح پر وہ اہم کردار ادا کرے۔

گزشتہ ہفتے جبوتی نے کہا تھا کہ چین بھی امریکہ فرانس اور جاپان کی طرح اپنا فوجی اڈا بنانا چاہتا ہے۔

ان مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے روس بھی چین اور ماسکو کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات مغربی ممالک کو دکھا سکتا ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب یوکرین کے خلاف روس کی کارروائیوں کے جواب میں نیٹو افواج نے روس کے اطراف میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کیا تو روس کی افواج نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔

اس لیے اس مشق کو سٹرٹیجک دھمکی کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے بالکل اسی طرح جیسے مغربی فضائی حدور اور سمندروں میں روسی بمبار اور آبدوزں نے دوبارہ دھوا بول دیا ہو۔

چین کا اصرار ہے کہ یہ بحری مشقیں کسی کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ چین اور روس کے دفاعی تعلقات اہم ضرور ہیں لیکن چین روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری ’سرد جنگ‘ کا حصہ نہیں بننا چاہتا ہے۔