پیوتن منظرعام پر، بحیرہ منجمد شمالی میں جنگی مشقوں کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی صدر ولادی میر پیوتن پانچ مارچ کے بعد پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں جس سے ان کی صحت کے بارے میں پھیلی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔
سوموار کو انھوں نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کرغستان کے صدر المازبيک اتامباييف سے ملاقات کی ہے۔
خبررساں ادارے آر آئی اے نووستی کے مطابق صدر پیوتن نے اپنی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کے بارے میں کہا ’حالات گپ شپ کے بغیر بوریت کا شکار ہو جاتے۔‘
سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں کرغستان کے صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا صدر پیوتن ’مجھے ایک مختصر ڈرائیو پر لےگئے، وہ خود گاڑی چلا رہے تھے اور میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے ہوں کہ وہ بالکل صحت یاب ہیں۔‘
روسی نیوز چینل روسیا 24 نے ملاقات کے مختصر مناظر بھی دکھائے، تاہم ان مناظر میں آواز شامل نہیں تھی۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ صدر ولادی میر پیوتن نے روسی نیوی کو بحیرہ منجمد شمالی میں بڑی فوجی مشقوں کے لیے مکمل جنگی تیاری کا حکم دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روس کا کہنا ہے کہ ان جنگی مشقوں میں56 جنگی بحری جہاز، ہوائی جہاز اور 38 ہزار فوجی شامل ہیں۔
خبررساں ادارے آرآئی اے نووستی کے مطابق وزیردفاع سرگئی شوئگو نے کہا ان مشقوں میں مغربی فوجی ڈسٹرکٹ کے ناردرن فلیٹ، ائربورن یونٹس اور آرمڈ یونٹس شرکت کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مشقیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب روسی افواج کی مشرقی یوکرین میں مداخلت کے باعث نیٹو کو انتہائی تشویش ہے۔
مشرقی یوکرین میں روسی نواز باغیوں اور یوکرین کی سرکاری فوج کے درمیان اس وقت عارضی جنگ بندی کی گئی ہے۔
نیٹو نے تین بالٹک ریاستوں میں اضافی فوج بھیجی ہے جہاں روسی اقلیتوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور سرد جنگ کے دور میں وہ ماسکو کے زیرحکومت رہی ہیں۔
واضح رہے کہ صدر پیوتن کے دورہ قزاقستان کے ملتوی کیے جانے کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں جس کی تردید صدر پیوتن کے ترجمان بھی کر چکے تھے۔
صدر پیوتن نے جمعرات اور جمعے کو قزاقستان کا دورہ کرنا تھا۔
روسی صدر پیوتن کو سوموار سے پہلے آخری مرتبہ 5 مارچ کو اطالوی وزیراعظم ماتیو رینزی سے ملاقات کے دوران دیکھا گیا تھا۔







