صدر پیوتن کہاں ہیں؟

کریملن کی موٹی سرخ اینٹوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے کی افواہوں پر جس طرح سے سرکاری حکام نے ردِ عمل دیا ہے اس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکریملن کی موٹی سرخ اینٹوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے کی افواہوں پر جس طرح سے سرکاری حکام نے ردِ عمل دیا ہے اس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے
    • مصنف, رچرڈ گیلپن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ماسکو

ماسکو میں روس اور کرغزستان کے صدور میں ملاقات کو کبھی بھی اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اب دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں صدور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت پر بات چیت کریں گے۔

لیکن ماسکو میں آج کل صورتحال ایسی ہے کہ اس ملاقات کو عقابی نطروں سے دیکھا جائے گا۔

اس ملاقات کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ صدر ویلادیمر پیوتن جو ہر روز میڈیا پر کسی نہ کسی وجہ سے آئے ہوئے ہیں کو پانچ مارچ سے کسی بھی تقریب میں نہیں دیکھا گیا ہے۔

ان کا منظر عام سے اس طرح غائب ہو جانے کی وجہ سے ماسکو کے لوگوں اور انٹرنیٹ پر قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں کہ کہیں کچھ تو ہوا ہے۔ کیا پیوتن بیمار ہیں، مر گئے ہیں یا ان کے خلاف بغاوت ہو گئی ہے۔

کریملن کی جانب سے ان افواہوں کو رد کیا گیا لیکن پیر یعنی آج روس اور کرغزستان کے صدور کی ملاقات ان افواہوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینے کا بہترین موقع ہے بشرطیکہ یہ ٹیلی کاسٹ لائیو ہو۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ افواہیں مزید پھیلیں گی۔

کریملن کی موٹی سرخ اینٹوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے کی افواہوں پر جس طرح سے سرکاری حکام نے ردِ عمل دیا ہے اس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

حکام کی جانب سے تصاویر پیش کی گئیں ہیں جس میں صدر پیوتن کو میٹنگز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن ان تصاویر کو میڈیا نے رد کردیا کہ یہ تصاویر پرانی ہیں۔

انسٹا گرام پر چیچنیا کے رہنما اور پیوتن کے قریبی ساتھی رمضان قدیروو نے ایک پوسٹ کی ہے جس سے افواہیں اور پھیلی ہیں۔

جب تک صدر پیوتن کا منظر عام پر نہ آنے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آتی تب تک یہ افواہیں گردش کرتی رہیں گی

،تصویر کا ذریعہVesti.ru

،تصویر کا کیپشنجب تک صدر پیوتن کا منظر عام پر نہ آنے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آتی تب تک یہ افواہیں گردش کرتی رہیں گی

اس پوسٹ میں رمضان نے صدر پیوتن کی حمایت کا عزم دہرایا ہے اور کہا ہے ’میں ان کی حمایت کرتا ہوں چاہے وہ عہدے پر فائز ہوں یا نہیں۔‘

اس پوسٹ سے افواہوں نے جنم لیا ہے کہ صدر کی قریبی رفقا کی یکجہتی میں دراڑ آئی ہے اور زیادہ طاقتور گروہ پیوتن کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔

اس افواہ کا تعلق پچھلے ماہ اپوزیشن کے رہنما بورس نیمتسوو کا کریملن کے قریب قتل سے ہے۔

اس قتل کے الزام میں افراد گرفتار کیے گئے افراد حراست میں ہیں اور ان کا تعلق چیچنیا سے ہے۔ ان میں سے ایک فرد زاؤر دادیوو کے بارے میں چیچنیا کے رہنما اور پیوتن کے قریبی ساتھی رمضان قدیروو کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک حقیقی جنگجو ہے اور حب وطن ہے‘۔

اس حوالے سے شک کیا جا رہا ہے کہ بورس کا قتل چیچنیا کے حکام کے حکم پر کیا گیا جس سے روسی انٹیلیجنس ایجنسی ایف ایس بی کے افسران ناراض ہوگئے۔ اور اسی وجہ سے صدر پیوتن کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔

ان افواہوں کی وجہ سے دیگر افواہوں کو رد کیا جا رہا ہے جیسے کہ سویٹزرلینڈ کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ صدر پیوتن اپنے سویٹزرلینڈ میں اپنے بچے کی پیدائش کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

اور جب تک صدر پیوتن کا منظر عام پر نہ آنے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آتی تب تک یہ افواہیں گردش کرتی رہیں گی۔ ہو سکتا ہے آخر میں معلوم چلے کہ صدر پیوتن کو صرف بخار تھا۔