اقتصادی پابندیوں کے باوجود روس کی فوجی طاقت میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہReuters
نو مئی کو ریڈ سکوائر میں ہونے والی روس کی فوجی پریڈ کی اہمیت اس سال کچھ زیادہ ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کی فتح کی 70 ویں سالگرہ روسی فوج کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے جدید اسلحے کی نمائش کر سکے۔
اور صدر ولادمیر پوتن اپنے عوام اور باقی دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ روس فوجی اعتبار سے ’پریمیئر لیگ‘ میں واپس آ گیا ہے۔
روس کی مسلح افواج کو جدید طرز پر بنانے کا عمل ابھی جاری ہے۔ لیکن مشرقی یوکرین میں لڑائی نے یہ ثابت کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں روسی فوج ساز و سامان اور قابلیت کے حوالے سے کافی بہتر ہوئی ہے۔
کونفلکٹ سٹیڈیز ریسرچ سینٹر کے کیئر جائلز جو کہ روسی مسلح افواج کے ماہر مانے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ حالیہ فوجی اصلاحات سات برس سے جاری ہیں اور ان کا آغاز 2008 میں جارجیا کی جنگ میں روس کی فوجی کارکردگی سے ہوا تھا۔
’روس نے وہ جنگ اطمینان سے جیت لی تھی لیکن اس دوران اسے یہ پتہ چل گیا تھا کہ اس کے فوجیوں کی تنظیم کا طریقہ اور اس کا ساز و سامان پرانا ہو چکا ہے۔‘
’اس وقت سے روس اپنی فوج کے ہر پہلو کی جانچ پڑتال کر رہا ہے، جس میں نئے ہتھیاروں کے نظام میں سرمایہ کاری ، سپاہیوں کے یونیفارم اور ساز و سامان سے لے کر جوہری ہتھیاروں تک سب شامل ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین میں جنگ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فوجی اصلاحات سے فائدہ ہوا ہے۔ نیٹو کے کمانڈر روس کے الیکٹرانک جنگی ساز و سامان کے بہتر استعمال، بغیر پائلٹ کے ڈرونز اور بہتر فوجی نقل و حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائلز کہتے ہیں کہ روس نے سویت آرمی کی باقیات کو 21 ویں صدی کی جنگجو فوج میں تبدیل کر دیا ہے۔
لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ روس کی اقتصادی صورتِ حال تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرائمیا پر قبضے اور یوکرین میں کارروائی کے بعد لگائی جانے والی مغربی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے۔
لیکن لندن میں روسی نامی تھنک ٹینک کے فوجی تجزیہ کار آئیگور ستیاگن کہتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ فوج کو جدید طرز پر بنانے کے لیے پیسہ کہیں سے آتا رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ روسی حکومت کے ماڈل میں ادارتی مسائل رہیں گے اور یہ مسائل اس وقت بھی ہوں گے جب تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور آخر کار اقتصادی پابندیاں بھی اٹھا لی جائیں گی۔
آرماتا ٹی۔4 ٹینک روسیوں کے لیے ایک انقلابی ٹینک ہے جو کہ سرد جنگ کے بعد نئے ڈیزائن سے بنایا گیا پہلا ٹینک ہے۔
روس کے تقریباً حالیہ سبھی ٹینکوں کے ماڈل 1964 کے ٹی۔64 ماڈلوں کی جدید شکل ہے۔
آئیگور کہتے ہیں کہ پرانا ڈیزائن اب متروک ہو چکا ہے۔ ’وہ دوسری جنگِ عظیم کی طرز کی لڑائی کے لیے بنایا گیا جس میں ٹینک کا سامنا ٹینک کرتا تھا۔‘
’آج کل ٹینک شکن ہتھیار اوپر سے حملہ کرتے ہیں اسلیے ٹی۔64 کو بہتر بنانا تقریباً ناممکن تھا۔ سو روسی فوج کو بنیادی طور پر ایک مختلف ڈیزائن کی ضرورت تھی جو کہ آرماتا کی شکل میں سامنے ہے۔‘
آرماتا شاید روسی فوج کے مستقبل کی علامت ہو لیکن اس میں الیکٹرانک کا بہت زیادہ استعمال ہوا ہے اور آئیگور کہتے ہیں کہ مسئلہ یہی ہے۔
’روسی الیکٹرانک کی صنعت الیکٹرانکس میں استعمال ہونے والے 80 فیصد تک انتہائی ضروری چپ سیٹس کی درآمد کرتی ہے اور ان میں زیادہ تر مغربی ممالک سے ہی درآمد کیے جاتے ہیں۔‘
یوکرین پر انحصار
روس کی یوکرین کے ساتھ لڑائی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جیسا کہ جائلز کہتے ہیں کہ ’فوج کو جدید طرز پر بنانے کے عمل کے لیے ایک بڑا سر درد یوکرین کی دفاعی صنعت تک رسائی کا ہاتھ سے جانا ہے۔‘
’یو ایس ایس آر کے خاتمے کے اتنے عرصے کے بعد بھی روس اور یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس ابھی تک قریبی تعاون کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اب روس کو اپنے بحری بیڑوں، جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کے نظام کے اہم پرزوں کے لیے کہیں جانا پڑے گا یا پھر اسے انھیں خود ہی بنانا پڑے گا۔‘
آئیگور ستیاگن اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ’روس کے دفاعی حکام کھلے عام کہتے ہیں کہ روس کی دفاعی صنعت کی یوکرین سے 30 فیصد درآمد کو مقامی طور پر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تہائی کافی بڑا حصہ ہے، جب آپ اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ روسی فوج کے ہارڈویئر میں پانچ میں سے ایک یا تو یوکرین سے آتا ہے یا اس کا انحصار کسی ایسے پرزے سے ہوتا ہے جس کا تعلق یوکرین سے ہو۔
یقیناً روس کے حجم کی فوج کو ایک ہی ہلے میں جدید طرز پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ روس نے سٹرٹیجک جوہری فورسز کو ترجیح دی ہے جس میں نئے میزائل اور آبدوزیں بھی شامل ہیں۔
جائلز کہتے ہیں کہ آرمی کے لیے ترجیح خصوصی فورسز اور ہوا سے حملہ کرنے والے فوجی ہیں۔
’اس کی ایک شکل فروری 2014 میں کرائمیا کی گلیوں پر نظر آنے والی انتہائی ماہر خصوصی فورسز تھیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ویسے پوری فوج میں ہی بہتری لائی جا رہی ہے۔
جوہری ہتھیار
مغربی مبصرین کے لیے ایک پریشانی روسی حکام کی طرف سے اکثر جوہری ہتھیاروں کا حوالہ دینا ہے۔
آئیگور ستیاگن کہتے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس کو یہ پتہ ہے کہ وہ روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے مغرب سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔
کیئر جائلز کے لیے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ روس کے کئی اعلی سرکاری اہلکار بشمول صدر پوتن جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر زور دے چکے ہیں۔







