یورپی یونین کا یوکرائن میں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرائن سے کہا ہے کہ وہ ملک کے مشرق میں ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں فکر مند ہے تاہم وہ یوکرین میں فوج نہیں بھیجیں گے۔
یوکرین کے شہر کیف میں یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’ہم فوج نہیں، صرف ایک شہری مشن پر بات کریں گے۔‘
اس سے پہلے یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے کہا تھا کہ یورپی یونین یا اقوام متحدہ کو مشرقی یوکرین میں امن کی بحالی پر کام کرنے والوں کو تعینات کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ماریو پال کے شہر کے قریب ایک گاؤں میں روس نواز باغی بمباری کر رہے ہیں۔
اتوار کو حکومت کے زیر کنٹرول شہر ماریوپال کے قریب ایک گاؤں میں بمباری کی گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کیف میں ایک مشن بھیجے گا جو یوکرین کے شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے جائزہ لے گا۔
یوکرین میں دونیستک اور لوہانسک کے خطوں میں ایک برس سے سرکاری فوج اور مسلح باغیوں کی لڑائی جاری ہے۔
مغربی ممالک نے روس پر باغیوں کو مسلح کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ روس اس بات کی تردید کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
پیٹرو پوروشینکو کا کہنا ہے کہ یوکرین میں باغیوں کے فرنٹ لائن علاقوں کی مانیٹرنگ کرنے کے لیے امن فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔
یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ انھیں مشرقی یوکرین میں ہتھیاروں کے داخل ہونے کی اطلاعات پر تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مبصرین یوکرین میں بھاری ہتھیاروں کی موجودگی کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
منسک میں رواں برس فروری میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت فریقین شورش زدہ علاقوں سے بھاری ہتھیاروں ہٹانے کے پابند ہیں۔
ڈونلڈ ٹسک اس بات پر مصر ہیں کہ یورپی یونین کی جانب سے روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں اس وقت تک برقرار رہنی چاہیں جب تک منسک معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا۔
بین القوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ رواں برس وسط فروری سے جاری لڑائی کے دوران شیروکینا میں اب تک سب سے زیادہ شیلنگ کی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے قریب بھاری ہتھیار جن میں ٹینک بھی شامل ہیں دیکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب یورپی کمیشن کے صدر جان کلاڈ جنکر نے کیف میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔ یہ مذاکرات منگل کو بھی جاری رہیں گے۔







