یوکرین میں تازہ جھڑپیں

یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوجی فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوجی فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے

جنگ بندی کی تازہ سفارتی کوششوں کے باوجود مشرقی یوکرین میں حکومتی افواج اور روس نواز باغیوں کے مابین رات بھر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کی افواج پر باغیوں کے گڑھدونیتسک میں 26 بار گولہ باری کی گئی۔

دوسری جانب باغیوں کا موقف ہے کہ شہر کے ایئرپورٹ کے قریب ان پر حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز یوکرین، روس،جرمنی اور فرانس نے محاذ سے مزید ہتھیاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔

روس اور یوکرین نے مشرقی یوکرین میں مزید جھڑپوں کے بعد بھاری ہتھیاروں کے علاوہ ٹینکوں سمیت چند دیگر ہتھیاروں کی محاذے جنگ سے واپسی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کا معاہدہ 12 فروری کو فرانس اور جرمنی کے تعاون سے طے پایا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں فوج اور روس نواز باغیوں میں جھڑپوں کے بعد سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برلن میں رات گئے تک جرمنی، فرانس، روس اور یوکرین کے وزرا خارجہ کے درمیان جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر نے بتایا کہ اب جو ہتھیار ہٹائے جائیں گے ان میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ’ اب ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، مارٹر گولوں اور 100 ایم ایم سے کم درجے کے ہتھیاروں کی واپسی یقین دہانی شامل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات نے ایک بار پھریوکرین کی فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان موجود اختلافات ایک بار پھر واضح ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 26 فروری کو یوکرین کی وزارتِ دفاع نے باضابطہ طور پر ملک کے مشرقی علاقوں سے ہھتیار ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ یوکرین کے مشرقی علاقوں دونیتسک اور لوہانسک میں حکومتی افواج اور روس نواز باغیوں کے مابین لڑائی گذشتہ برس اپریل میں روس کے کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے کے ایک ماہ بعد شروع ہوئی تھی۔

حال ہی میں دونیتسک ائیر پورٹ اور شروکین نامی گاؤں میں ہونے والی جھڑپوں سے قبل تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یوکرین کی فوج اور روس نواز باغی فروری میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہیں۔

برلن میں مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں فریقین میں ہونے والی ان حالیہ جھڑپوں پر ’تشویش‘ کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس عرصے میں اکثر اوقات دونوں جانب سے شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے تاہم فریقین نے محاذِ جنگ سے بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کا دعویٰ بھی اسی دوران کیا تھا۔

خیال رہے کہ یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوجی فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔

غیر جانبدار ماہرین بھی اس بات کو دہراتے نظر آتے ہیں جبکہ ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی روسی باغیوں کی مدد کر رہا ہے تو یہ اس کا رضا کارانہ فعل ہے۔