یوکرین کا تنازع، امریکی ٹینک یورپ میں

،تصویر کا ذریعہGetty
یوکرین میں روسی کارروائی کے سبب پریشان نیٹو اتحادیوں کی مدد کے لیے کئی سو امریکی فوجی گاڑیاں شمالی یورپ کی بلقان کی ریاستوں میں پہنچ گئی ہیں اور یورپ میں ہی رہیں گي۔
ٹینک اور فوجی گاڑیاں ایک ایسے وقت میں وہاں پہنچی ہیں جب بحیرہ اسود میں پہلی ہی امریکی فوج اور نیٹو کی فضائيہ کی ڈرل جاری ہے۔
حالانکہ یوکرین میں جنگ بندی جاری ہے لیکن یوکرین میں حالیہ لڑائی سے روس اور مغرب ممالک کے درمیان بے یقینی کا ماحول پیدا ہوا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے یورپی یونین پر روس اور یورپی یونین کے درمیان سخت کلامی کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ماسکو میں اپنے ہسپانوی ہم منصب سے ملاقات کرنے کے بعد سرگی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ پولینڈ کے سابق وزیر اعظم نے امریکی صدر براک اوباما سے کہا تھا کہ یورپی یونین نے روس کے خلاف اتنی جلد کارروائی نہیں کی جتنی کہ امریکہ نے کی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا ’برسلز میں یورپی یونین کے سفارت کار جان بوجھ کر روس اور یورپی یونین کے درمیان رشتے بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سفارتکار جان بوجھ کر جنگ بندی کی سیاسی شرائط کو ملتوی کر رہے تاکہ ان کے اور یورپی یونین کے رشتے بہتر نہ ہوسکیں۔ یورپین کاؤنسل کے صدر ڈانلڈ ٹسک نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ اگر امریکہ اور یورپی یونین متحد ہوجائیں تو ’وہ روس کی اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر لگام لگاسکتا ہے۔‘
یوکرین کے صدر پیٹرو پوریشنکو نے پیر کی شب کہا تھا کہ یوکرین کی حکومت نے اپنے بھاری راکٹ اور دیگر اسلحہ ہٹالیے ہیں جبکہ روس کے حامی باغی بھی کافی حد تک پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسے بلقان کی ریاستوں کی حکومتوں کے درمیان مشرقی یوکرین میں روسی مداخلت کے بارے میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
حالانکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وہاں جاری لڑائی میں براہ راست ملوث نہیں ہے حالانکہ یوکرین ، مغربی ممالک اور آزاد ماہرین نے اس کے اس دعوی کو مسترد کردیا ہے۔
برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری فلپ ہیمنڈ نے منگل کو کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمور پوتن کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں مشرقی یورپ کے ممالکوں کی بنیادی سیکورٹی پر حملہ کرنے کے برابر ہے۔
بلقان ریاست لیتھوینیا کی صدر ڈالیا ریبوسکیٹ نے گزشتہ ہفتے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے ملک کے سیکورٹی کو جو خدشات لاحق ہیں وہ ’ بالکل حقیقی‘ ہیں۔

واضح رہے کہ بلقان ریاستوں میں روسی فوجیوں کی کاروائیاں تیز ہورہی ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں ایسٹونیا کے حفاظتی اہلکاروں کو روسی ایجنٹس نے پکڑ لیا تھا اور انہیں ماسکو لے گئے تھے۔
ایک امریکی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کل سات سو پچاس بھاری جنگی گاڑیوں میں سے ڈھائی سو لیٹویاکے دارالحکومت ریگا اور شمالی جرمنی پہنچیں اور وہیں کھڑی رہیں گی تاکہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو اس سے فوراً نمٹا جاسکے۔ یہ گاڑیاں بلقان ریاستوں اور پولینڈ میں نوے دن تک جاری رہنے والی نیٹو فوجوں کی تربیت کے دوران وہیں رہیں گی اور اس کے بعد پورے یورپ میں بھیجی جائیں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا انتظام مہمان ممالک کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔







