’قیدی یوکرینی فوجیوں کے قتل کے ثبوت موجود ہیں‘

لوہانسک اور دونیتسک میں گذشتہ برس اپریل سے لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنلوہانسک اور دونیتسک میں گذشتہ برس اپریل سے لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے چار قیدی یوکرینی فوجیوں کو قتل کیا ہے۔

عینی شاہدین نے تنظیم کو بتایا ہے کہ ایک فوجی کو تو ایک علیحدگی پسند کماندار نے انتہائی قریب سے گولی ماری۔

ایمنسٹی کے مطابق اس کے پاس موجود ویڈیو میں باقی تین فوجیوں کو پہلے قید میں زندہ حالت میں اور پھر مردہ خانے میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ان تینوں کو سر اور جسم کے اوپری حصے میں گولیاں ماری گئی تھیں اور ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہیں۔

یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے تنظیم کے نائب ڈائریکٹر ڈینس کیرووشیف نے کہا ہے کہ ’ان دعوؤں کی فوراً اور جامع انداز میں غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں اور اس کے ذمہ داران پر منصفانہ مقدمہ چلانا چاہیے۔‘

رواں برس فروری میں یوکرین میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جو تاحال قائم ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنرواں برس فروری میں یوکرین میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جو تاحال قائم ہے

یوکرینی باغیوں پر فوجیوں کے قتل کے الزامات اس وقت سامنے آئے تھے جب ایک علیحدگی پسند کمانڈر نے یوکرینی اخبار کیئیف پوسٹ کو بتایا تھا کہ اس نے خود 15 ایسے یوکرینی فوجیوں کو قتل کیا جو لڑائی کے دوران پکڑے گئے تھے۔

باغیوں کے ایک مشیر نے بی بی سی کو گذشتہ برس بتایا تھا کہ باغیوں نے اپنے زیرِ اثر علاقے میں ’افراتفری سے بچنے‘ کے لیے ہی قیدیوں کو قتل کیا۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں یوکرین میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جو تاحال قائم ہے تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں گذشتہ برس اپریل سے لڑائی کے آغاز کے بعد جہاں چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں وہیں دس لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔