یوکرین: بس حادثہ، چار ہلاک اور 19 زخمی

يوکرین میں ایک چیک پوائنٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس حادثے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں

یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں مسافروں سے بھری ایک بس کے بارودی سرنگ سے ٹکرا جانے سے چار افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس حکومت کے کنٹرول والے خطے دونتسک کے آرتمسک شہر کے قریب ایک چیک پوائنٹ پر بغیر رکے جانے کی کوشش کررہی تھی۔

یہ بس آرتمسک شہر سے روس حامی باغیوں کے کنٹرول والے شہر ہورلیکا جارہی تھی۔

روس حامی باغیوں نے اپریل میں دونتسک اور لوہانسک کے متعدد علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

یوکرین کی وزارات خارجہ کے علاقائی سربراہ یاچیسلو ابروسکن کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی رپورٹس کے مطابق ڈرائیور نے چیک پوائنٹ کو نظر انداز کیا اور کچے راستے پر بس لے گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’بس کا ڈرائیور جس وقت ایک کھیت سے گزر رہا تھا اس وقت بس کا پچھلا پہیہ ایک باردوی سرنگ سے ٹکرا گیا۔‘

ہورلیکا دونتسک کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے۔

یوکرین کی فوج اور علیحدگی پسند گروپوں کے درمیان مہینوں جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اس خطے میں ہر جگہ بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہے۔ اس لڑائی میں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دونوں گروپوں کے درمیان فروری میں جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا تھا وہ برقرار ہے حالانکہ دونوں ایک دوسرے پر اکا دکا گولہ باری کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔

یوکرین کی حکومت، مغربی ممالک کے لیڈران اور نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے واضح شواہد ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روس ان باغیوں کو فوج اور اسلحہ فراہم کرکے مدد کررہا ہے۔

حالانکہ روس ان الزامات کی بار بار یہ کہ کر تردید کرتا رہا ہے کہ جو لوگ باغیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں وہ خود اپنی مرضی سے ایسا کررہے ہیں۔