باغیوں کی مشرقی یوکرین میں عارضی جنگ بندی ختم کرنے کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہReuters
مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں کے رہنما کا کہنا ہے کہ اُن کے زیر قبضہ علاقوں کی خودمختار حیثیت تسلیم نہ کرنے پر جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔
الیگزینڈر ذاخارچنکو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے علاقے کو وسعت دے کر عوامی جمہوریہ دونیتسک بنانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یوکرینی حکام فروری میں طے پانے والے معاہدے پر مکمل طور پر عمل نہیں کر رہے ہیں اور ’یوکرین تمام مسائل حل نہیں کرنا چاہتا ہے۔‘
الیگزینڈر ذاخارچنکو نے کہا کہ ’اگر آپ مسئلے حل کرنے چاہتے ہیں تو عملی طور پر بھی کچھ کرنا پڑتا ہے، آگے بڑھ کر مسئلے کو حل کیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہو رہا ہے، تو پھر منسک میں ہونا والے معاہدے پر عمل دارآمد نہیں ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے یوکرین پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کی تیاری کر رہا ہے جبکہ یوکرین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
فرانس جرمنی اور روس کے تعاون سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والے معاہدے کے تحت یوکرین کی حکومت نے کہا تھا کہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقے ملک کا حصہ رہیں گے۔
روس نواز باغی الیگزینڈر ذاخارچنکو نے اصرار کیا ہے کہ ان علاقوں کو قانونی طور پر خومختار تسلیم کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’یوکرین نے فلاح وبہبود، پنشن اور وہ تمام اخراجات جو ریاست کی ذمہ داری ہیں، اُن کی ادائیگی روک دی ہے۔‘
’اگر وہ یہ نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے ہمیں تسلیم کر لیا ہے۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مرکزی دونیستک میں مسلسل شیلنگ کی آوازیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ رواں سال فروری میں ہونے والا معاہدے علاقے میں امن نہیں لا سکا۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ سینچر کو باغیوں نے لوہانسک کے علاقے میں سرکاری املاک کو نشانہ بنایا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 6116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوج فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔







