مشرقِ وسطیٰ پر روس کی پالیسی میں تبدیلی

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
روس کے ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ایس۔300 میزائل سسٹم دینے کے فیصلے پر مغربی ممالک میں اس کے نقاد ناراض ہوئے ہیں جب کہ اس سے اسرائیلی حکومت کو بھی خطرہ محسوس ہوا ہے۔
کئی ایک تو سمجھتے ہیں کہ اس سے ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان جوہری معاہدے پر بھی سوالیہ نشان اٹھ سکتے ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ماسکو مشرقِ وسطیٰ میں اپنا سفارتی پروفائل بھی دوبارہ بہتر بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ایران کو ایس۔300 بیچنے کا فیصلہ نیا نہیں ہے، یہ معاہدہ 2010 کے آخری حصے میں کیا گیا تھا۔ لیکن ایران کی جوہری سرگرمیوں اور اسرائیل اور مغرب کی شدید مخالفت کی وجہ سے روس نے اس نظام کو ایران کو دینے کے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اب ایس۔300 کا کون سا ورژن ایران کو دیا جائے گا۔
یہ روس کا سب سے اعلیٰ اور جدید فضائی دفاع نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ نہایت قابل نظام ہے اور ان سے بہت بہتر جن کا سامنا اسرائیل اور مغربی فضائی فورسز نے اس خطے میں حالیہ کارروائیوں میں کیا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے اعلیٰ فضائی دفاعی نظام سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا خطرہ کمزور ہو جائے گا اور اس سے اسے جوہری معاہدے پر قائم رکھنے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ بھی کمزور پڑ جائے گا۔
روس کا نقطۂ نظر بہت صاف ہے کہ وہ یہ دفاعی نظام ایک ایسے ملک کو دے رہا ہے جو کہ انتہائی متحرک خطے میں واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس نے کچھ برس تو یہ نظام ایران کے حوالے کرنے میں دیر کی لیکن جوہری مذاکرات میں ایران کی طرف سے دی جانے والی مراعات کے بعد یہ ظاہر ہو گیا کہ اب معاہدہ پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
اگر ایس۔300 ایران کو مل جاتا ہے تو اس کے فضائی دفاع کے باہر والے درجے کی ایک اور مضبوط تہہ بن جائے گی۔
لیکن ایس۔ 300 کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
نیٹو کے رکن یونان کے پاس بھی اس کا پہلا ورژن ہے جو پہلے قبرص کو بیچا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس طرح کی بھی خبریں آتی رہی ہیں کہ اسرائیل اور مغربی ایئر فورسز نے اس نظام کے خلاف تربیت حاصل کی ہے۔
یہ کوئی حیران کن ہتھیار نہیں ہے لیکن اس سے یقیناً ایران کے جوہری ڈھانچے کو فضا سے نشانہ بنانا مشکل ہو جائے گا، شاید اس کے بعد اسرائیل اکیلا ایسا کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
لیکن کیا ہے ایس۔300 کے معاہدے کے پیچھے؟
کچھ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سےروسی صدر مغرب کو چڑا رہے ہیں۔ لیکن اگر سچائی کی بات کی جائے تو یوکرین اور ماسکو کے درمیان تناؤ کا ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔
کچھ اسے ولادی میر پوتن کی مشرقِ وسطیٰ پر نئی پالیسی سمجھتے ہیں۔
کارنیگی ماسکو سینٹر کے دمتری ٹرینن کہتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح معاہدے کا محرک بہت پیچیدہ ہے۔
’ایک ارب ڈالر کی آمدنی سے لازمی مدد ملے گی، خاص کر ان مشکل وقتوں میں، لیکن ایران کے ساتھ طویل مدتی تعلقات بہتر بنانا زیادہ اہم ہے۔‘
’مغرب سے تعلقات ٹوٹنے کے بعد روس اہم غیر مغربی کھلاڑیوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔‘
روس نے ناکام ’عرب سپرنگ‘ کے بعد علاقے میں اپنا اثر بڑھانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہے۔
اس کا سب سے پرانا اتحادی شام، جس کے صدر بشار الاسد ہیں، مغرب کے لیے تو ایک سر درد ہیں لیکن کریملن کے لیے نہیں۔
ٹرینن کہتے ہیں کہ کریملن کو یقین ہے کہ ’اس کی خطے کے متعلق سمجھ بوجھ امریکہ سے بہتر ہے اور یہ کہ اتحادیوں کا ساتھ چھوڑنے سے زیادہ بہتر ہے کہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ رہا جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ روسی صدر پوتن سمجھتے ہیں کہ روس کو مشرقِ وسطیٰ واپس جانا ہے جہاں اس کا پرانے سویت یونین سے بالکل مختلف کردار ہو گا۔
اس کے علاوہ اس کا پرانا اتحادی مصر بھی اس کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔
گذشتہ سال ایک اہم ہتھیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جو کہ فوجی حکومت کی واشنگٹن سے صاف مایوسی ظاہر کرتا ہے۔







