بحیرۂ روم میں پھنسے دو ہزار تارکین وطن کو بچالیا گیا

اطالوی بحریہ کی دو کشتیاں سنیچر کو تارکین وطن کو بچانے کے بڑے عمل میں شامل تھیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشناطالوی بحریہ کی دو کشتیاں سنیچر کو تارکین وطن کو بچانے کے بڑے عمل میں شامل تھیں

اٹلی کے کوسٹ گارڈ نے کہا ہے کہ لیبیا کے ساحل سے دور کم از کم دو ہزار تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو مختلف کشتیوں سے بچایا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ کسی ریسکیو آپریشن کے دوران ایک دن میں بچائے جانے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کم از کم 20 کشتیوں سے پریشانی میں گھر جانے کی اطلاعات موصول ہوئي تھیں۔

خیال رہے کہ رواں سال گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی اور سمندری سفر کے لیے ناقابل کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا سے اٹلی کا بحری راستہ مصروف ترین راستوں میں سے ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک دو لاکھ 64 ہزار افراد بحر روم عبور کر چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ چار ہزار اٹلی کے ساحل پر اترے ہیں جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار یونان کے سواحل پر۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو لیبیا کے ساحل سے دور سمندر میں لوگوں کی جانیں بچانے میں اطالوی بحریہ کے دو جہاز شامل تھے۔

ناروے کی بحریہ کا جہاز سائم پائلٹ بھی امدادی کاموں میں شامل تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنناروے کی بحریہ کا جہاز سائم پائلٹ بھی امدادی کاموں میں شامل تھا

بحریہ نے بتایا کہ لکڑی کی دو کشتیوں سے خطرے کی اطلاعات ملنے کے بعد سیگالا فلگوسی نامی جہاز نے 507 افراد کو بچایا جبکہ ویگا نامی جہاز نے 432 افراد کو بچایا۔

بچانے کے کام میں کئی دوسرے اطالوی جہاز بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ ناروے کی بحریہ کا جہاز سائم پائلٹ بھی امدادی کاموں میں شامل تھا جسے یورپی یونین کے ٹرائٹن پیٹرول مشن کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

ایک فلاحی تنظیم ڈاکٹرز وداؤٹ بورڈرز کی کشتی نے 311 افراد کو بچایا ہے جن میں ایک نوزائیدہ بھی شامل ہے۔

کوسٹ گارڈ نے کہا ہے نگرانی کرنے والی کشتیوں اور جہازوں نے مختلف غیر محفوظ اور سمندری سفر کے لیے ناقابل کشتیوں سے جمعے کی شب اور سنیچر کی صبح کے درمیان تقریبا ایک ہزار لوگوں کو بچایا ہے۔

جبکہ اطلاعات کے مطابق تقریبا ایک ہزار دوسرے افراد دوسری کشتیوں پر اٹلی کے سواحل کے لیے سرگرم سفر ہیں۔

بچانے کے عمل میں اضافے پر وزیر اعظم میٹیو رینزی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک دو لاکھ 64 ہزار افراد بحر روم عبور کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک دو لاکھ 64 ہزار افراد بحر روم عبور کر چکے ہیں

فورزا اٹالیا پارٹی کے سینیٹر موریزیو گیسپاری نے کہا: ’یہ کوئی لطیفہ ہے۔ ہم اپنی ہی فورسز کو سمگلروں کا کام کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہم پر حملہ ہو۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کا سبب افریقہ اور مشرق وسطی میں جاری جنگ اور ظلم و جبر ہے اور یورپی حکومتوں کو انھیں محفوظ راستے فراہم کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

دریں اثنا سسلی کے پیلرمو شہر سے پولیس نے چھ مصریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر 19 اگست کو بچائے جانے والے افراد کی سمگلنگ کا الزام ہے۔

اس کشتی پر 432 افراد سفر کر رہے تھے جو کہ گنجائش سے 10 گنا زیادہ تھی۔