بحیرۂ روم میں ہزاروں تارکینِ وطن کے بچاؤ کی کارروائی

یورپ میں داخلے کے خواہشمند غیر قانونی تارکینِ وطن سفر کے لیے لیبیا سے اٹلی کا بحری راستہ بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیورپ میں داخلے کے خواہشمند غیر قانونی تارکینِ وطن سفر کے لیے لیبیا سے اٹلی کا بحری راستہ بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

اٹلی کے ساحلی محافظین کا کہنا ہے کہ لیبیا کی سمندری حدود کے قریب بحیرۂ روم میں موجود ہزاروں تارکینِ وطن کو بچانے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اطالوی سرکاری خبر رساں ادارے ’انسا‘ کا کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈز کو سمندر میں موجود چار بڑی اور 14 ربر کی چھوٹی کشتیوں کی جانب سے مدد کی اپیل موصول ہوئی تھی۔

کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ ان کشتیوں پر سوار تارکینِ وطن کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

اس امدادی کارروائی میں سات کشتیاں حصہ لے رہے ہیں جو رواں ہفتے کے دوران پہلے ہی تارکینِ وطن کو بچانے کی کارروائیوں کا حصہ رہ چکی ہیں۔

ناروے کے ایک اخبار کے مطابق نارویجن فوج کا بحری جہاز بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔ اس جہاز نے سنیچر کو پی 320 تارکینِ وطن کو بچایا تھا جس کے بعد اب سے اس مشن پر روانہ کیا گیا ہے۔

یورپ میں داخلے کے خواہشمند غیر قانونی تارکینِ وطن سفر کے لیے لیبیا سے اٹلی کا بحری راستہ بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ آنے والے تارکینِ وطن میں سے ایک لاکھ چار ہزار کے قریب اٹلی آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ ایک لاکھ 60 ہزار تارکین نے یونان کا رخ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈز کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے تارکین وطن کے لیے سب سے خطرناک سفر بن گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی اطالوی بحریہ نے بحیرۂ روم میں تارکین وطن سے بھری ہوئی کشتی سے 40 تارکین وطن کی لاشیں برآمد کی تھیں۔

اس واقعے کے بعد اطالوی وزیر داخلہ انجلینو ایلفانو نے کہا تھا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں جاری بحران کا جلد از جلد حل تلاش کرنا ہوگا ورنہ اسے بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش میں تارکینِ وطن کی ہلاکتوں کے واقعات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔