ہنگری کی جانب سے تارکینِ وطن کو بسیں فراہم کرنے کے اچانک فیصلے کے بعد وہ آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریا کی جانب سے تارکینِ وطن کو بسیں فراہم کرنے کے اچانک فیصلے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے تارکینِ وطن اب آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ ہنگری نے کئی دنوں تک مغربی یورپ کے لیے عازمِ سفر تارکینِ وطن کو ٹرین کے سفر سے روکا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تارکینِ وطن کی رجسٹریشن ضروری ہے اور اس تعطل کی وجہ سے مشتعل مناظر سامنے آئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریا کا کہنا ہے کہ وہ جرمنی کے ساتھ اس بات پر رضامند ہے کہ پناہ گزینوں کو سرحد پار کرنے دی جائے۔
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کے رکن ممالک تارکینِ وطن کی کثیر تعداد کے پیش نظر کسی حل تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق جمعے کو دیر گئے مرکزی بوڈاپیسٹ کے کیلیٹی سٹیشن پر بسوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ خیال رہے کہ یہ جگہ کئی دنوں سے تارکینِ وطن کا عارضی کیمپ بنی ہوئی تھا۔
،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ آسٹریا جانے والی شاہراہ کے لیے بھی بسیں روانہ کی گئی ہیں کیونکہ سینکڑوں پناہ گزینوں نے آسٹریا کی سرحد کے لیے پیدل ہی سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس جو ان لوگوں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن میں اس بات کا خوف زیادہ تھا کہ انھیں جرمنی بھیجنے کی بجائے گرفتار کر لیا جائے گا اور انھیں قطعی قطعی نہیں تھی کہ انھیں سرحد تک بھیجنے کے لیے بسیں فراہم کی جائیں گي۔
،تصویر کا کیپشنبہت سے تارکینِ وطن کی منزل جرمنی کیونکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے یہاں رواں سال آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد کی توقع ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے بسیں اس لیے روانہ کی ہیں تاکہ ملک میں نقل و حمل کا نیٹ ورک مفلوج نہ ہو۔
،تصویر کا کیپشنہمارے دوسرے نامہ نگار بیتھانی بیل نے سنیچر کی صبح 30 افراد پر مشتمل تارکینِ وطن کے ایک گروپ کو آسٹریا اور ہنگری کے درمیان سرحد کو عبور کرتے ہوئے دیکھا۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریا کے چانسلر ورنر فے مین نے کہا کہ جرمنی کی ہم منصب انگیلا میرکل سے گفتگو کے بعد دونوں ممالک نے ہنگری کی سرحد پر ہنگامی حالات کے پیش نظر تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔