دشوارگزار اور مشکل سفر کے بعد ہزاروں پناہ گزینوں کی جرمنی آمد۔
،تصویر کا کیپشنمشرقِ وسطیٰ سے آنے والے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن پر مشتمل پہلا گروپ ہنگری اور آسٹریا کے راستے سنیچر کو جرمنی پہنچا۔
،تصویر کا کیپشنان پناہ گزینوں کی منزل میونخ کا ریلوے سٹیشن کا تھا جہاں ان کے استقبال کے انتظامات کیے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنایک مشکل اور دشوار گزار سفر طے کرنے کے بعد پناہ گزینوں کے چہروں پر بالاخر اطمینان کے آثار دکھائی دیے۔
،تصویر کا کیپشنپہلے مرحلے میں دس ہزار پناہ گزین اور تارکینِ وطن آسٹریا سے جرمنی میں داخل ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتھکے ماندے بچوں کو دیکھ کر میونخ کے سٹیشن پر موجود رضاکار اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
،تصویر کا کیپشنپناہ گزین جرمنی پہنچنے کے بعد خوشی سے نعرے بازی کرتے رہے اور فتح کے نشان بناتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنجرمن عوام نے ان پناہ گزینوں کا کا تالیاں بجا کر استقبال کیا اور انھیں مٹھائی کھلائی۔
،تصویر کا کیپشنمیونخ آمد کے بعد پناہ گزینوں کو طبی معائنے کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر کو میونخ پہنچنے والوں میں ایسے خاندان بھی تھے جن کے ساتھ بہت چھوٹے بچے موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنسٹیشن پر موجود رضاکاروں نے پناہ گزینوں میں اشیائے خوردونوش تقسیم کیں۔
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کا پرچم اوڑھے یہ ننھا پناہ گزین سب کی توجہ کا مرکز رہا۔
،تصویر کا کیپشنپناہ گزین جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل کی تصویریں بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ چانسلر میرکل نے اہم یورپی ممالک کے رہنماؤں کے برعکس اپنے ملک کے دروازے آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔