تارکینِ وطن کے لازمی کوٹے پر یورپی ممالک کی مشاورت

جمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں ممکنہ طور پر اسی موضوع پر بات چیت کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں ممکنہ طور پر اسی موضوع پر بات چیت کی جائے گی

پناہ گزینوں کے مختص کوٹے پر اختلافات کے پیش نظر چار وسطیٰ یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جرمنی اور لکسمبرگ کے وزارئے خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ اور سلواکیہ نے یورپی یونین کا تجویز کردہ کوٹہ مسترد کردیا ہے جبکہ جرمنی نے تارکینِ وطن کے کوٹے کی حمایت حاصل ہے۔

جمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں ممکنہ طور پر اسی موضوع پر بات چیت کی جائے گی۔

یورپی کمیشن نے 28 رکن ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ہرسال مزید ایک لاکھ20 ہزار پناہ گزینوں کی میزبانی کریں۔ یہ موجودہ 40 ہزار افراد کو پناہ دینے کے لیے مختص کوٹے سے کہیں زیادہ ہے۔

شام اور لیبیا جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد ہزاروں کی تعداد میں یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے یہ افراد زیادہ تر ہنگری کے راستے امیر یورپی مملک، جرمنی، آسٹریا اور سویڈن پہنچ رہے ہیں۔ ان ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے قوانین قدرے نرم ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ اگر یورپی یونین اس کوٹے کے حمایت کر دیتی ہے تو ان تمام ممالک کو جرمنی کے مقابلے میں کہیں کم پناہ گزینوں کو اپنے ہاں جگہ دینی پڑے گی۔ ایسے میں خود کو ’وائزگریڈ‘ کہلوانے والے چار وسطی یورپی ممالک نے یورپی یونین کی جانب سے تجویز کردہ لازمی کوٹے کو مسترد کر دیا ہے۔

پراگ میں ہونے والے اجلاس سے قبل جمہوریہ چیک کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس میٹنگ کا مقصد حالیہ ’ اختلاف رائے کے پیش نظر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی فضا‘ کو بہتر بنانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

رواں سال ایک لاکھ پچاس ہزار پناہ گزین ہنگری کے راستے شمال کا سفر کر رہے ہیں جس کے بعد اس صورت حال میں ہنگری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ہنگری کی فوج نے مستقبل میں ممکنہ طورپر سرحدوں کی نگرانی اور لوگوں کی آمد کو روکنے کے لیے بدھ سے فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

ہنگری نے سربیا سے ملحق سرحد پر پہلے ہی نئی خاردار تاریں لگائی جا چکی ہیں۔

ہنگری کے حکام کو بتا دیا ہے گیا ہے کہ اگلے سال وہ مزید 40 ہزار تارکین وطن کی آمد کی امید رکھیں۔

یورپی کمیشن کے صدر جان نے بدھ کو یونان، اٹلی اور ہنگری سے آنے والے پناہ گزینوں کو باقی رکن ممالک میں ان کے مختص کوٹے کے تحت تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تعداد مئی میں صرف یونان اور اٹلی سے آنے والے 40 ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے صدر جینکر کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کی حمایت کردی ہے اور اب رکن ممالک کی منظوری کا انتظار ہے۔

جمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں ممکنہ طور پر اسی موضوع پر بات چیت کی جائے گی
،تصویر کا کیپشنجمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں ممکنہ طور پر اسی موضوع پر بات چیت کی جائے گی

اس دوران شام کے وزیر اطلاعات عُمران الزوبی نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کو اس مسئلے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ملک چھوڑ کر جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق حکومت مخالف جنگجو گروہوں بشمول خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والے گروہ کے زیر اثر علاقوں سے ہے۔

انھوں نے ’شدت پسندوں‘ کو شام بھیجنے پر یورپ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کا اشارہ ان ہزاروں یورپی باشندوں کی جانب تھا۔ جو نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجو گروپوں میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا سفر کر رہے ہیں۔