’ایک لاکھ 60 ہزار کی تعداد تو سمندر میں قطرہ ڈالنے جیسی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
جرمنی کے نائب چانسلر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرنا اس بحران کے تناظر میں ’سمندر میں ایک قطرہ ڈالنے‘ کے مترادف ہے۔
سگمار گیبریئل نے کہا ہے کہ اب تک جرمنی میں پناہ کے متلاشی ساڑھے چار لاکھ افراد آ چکے ہیں جن میں سے 37 ہزار رواہ ماہ کے ابتدائی آٹھ دن میں آئے ہیں۔
بدھ کو یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’ جامع، فوری اور دیرپا حل‘ کو ممکن بنانے والے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت مئی میں یونان اور اٹلی سے آنے والے 40 ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ مزید ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کو کوٹے کے تحت رکن ممالک میں تقسیم کیا جائے گا۔
جمعرات کو جرمن پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے سگمار گیبریئل نے کہا کہ ’اگر آپ اسے شائستگی سے بیان کرنا چاہیں تو یہ پہلا قدم ہے یا پھر آپ اسے سمندر میں ایک قطرہ ڈالنا بھی کہہ سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جرمنی نے رواں برس ساڑھے چار لاکھ پناہ گزینوں کا اندارج کیا ہے جن میں سے ایک لاکھ پانچ ہزار اگست میں 37 ہزار یکم سے آٹھ ستمبر کے درمیان رجسٹر کیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
ادھر آئرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار ہزار پناہ گزینوں کو جگہ دے گی جن میں وہ 1120 پناہ گزین بھی شامل ہیں جنھیں قبول کرنے پر آئرلینڈ پہلے ہی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔
برطانیہ، ڈنمارک اور آئرلینڈ یورپی یونین کے پناہ گزینوں کے کوٹے کے منصوبے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا اختیار رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ خصوصاً شام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں پناہ گزینوں نے حالیہ چند ہفتوں میں یورپ کا رخ کیا ہے۔
سربیا کے ٹی وی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں ہنگری سے متصل اس کی سرحد پر پانچ ہزار پناہ گزین پہنچے ہیں۔
ہنگری کی افواج نے ملک کی جنوبی سرحدوں سے آنے والے تارکین وطن کو کنٹرول کرنے کے ممکنہ طور پر سرحدی مشقیں شروع کی ہیں اور حکام نے جنوبی سرحدوں پر پولیس کے ساتھ فوجی تعینات کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
سربیا اور ہنگری کی سرحد پر پہلے ہی ایک خاردار تار اور باڑ لگادی گئی ہے۔
زیادہ تر مہاجرین شام اور لیبیا کے جنگ زدہ علاقوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے ہنگری کے راستے جرمنی، آسٹریا اور سویڈن میں داخل ہونا چاہتے ہیں، جو یورپی یونین کے خوشحال ممالک ہیں اور وہاں پناہ گزینوں کے لیے قوانین میں نرمی کی گئی ہے۔

آسٹریا اور ہنگری کی سرحد پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کے درمیان وہاں سے 3500 افراد سرحد پار کر کے آسٹریا میں داخل ہوئے ہیں جبکہ مزید سینکڑوں لوگ سرحد پر پہنچے ہیں۔
دوسری جانب پناہ کے لیے یورپ کا رخ کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم نہ ہونے کے بعد یورپی یونین میں شامل ممالک پناہ گزینوں کے بار کو برداشت کرنے کے معاملے پر یورپی کمیشن میں اپیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ہنگری کی فیصلہ کن کارروائی
بدھ کو ہنگری کی فوج نے اپنی نئی ذمہ داریوں کے پیش نظر فیصلہ کن کارروائی سے قبل مشقوں کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ہنگری کی فوج کے جنرل نے کہا ہے کہ ’ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہنگری کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘
ہنگری نے حال ہی میں سربیا کے ساتھ 175 کلومیٹر طویل سرحد پر خار دار تاروں اور باڑ لگانے کا کام مکمل کیا ہے جبکہ ایک اور سرحدی رکاوٹ پر بھی کام جاری ہے۔
ہنگری شمال کی طرف رخ کرنے والے مہاجرین کے لیے ایک فرنٹ لائن ملک کی حیثیت اختیار کرگیاہے۔ صرف اس سال ہنگری کی سرحدوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

ینکر کی تجاویز
- یورپی یونین کے رکن ملک ایک لاکھ 20 ہزار اضافی پناہ گزینوں میں سے اپنے حصے کے پناہ گزین قبول کریں جو ان 40 ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ ہوں گے جو اس سال مئی میں طے ہونے والی تعداد کے علاوہ ہیں، گو کہ اس وقت یورپی حکومتوں نے 32 ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا ہامی بھری تھی۔
- پناہ گزینوں کو تقسیم کرنے کا ایک مستقل نظام جس کے تحت مستقبل میں کسی بحران کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔
- کمیشن کی طرف سے ایسے محفوظ ملکوں کی نشاندہی جہاں پناہ گزینوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جا سکے۔
- یورپی یونین کے تمام ملکوں کے لیے مشترکہ پناہ دینے کی پالیسی۔
- ڈبلن سسٹم پر نظر ثانی جس کے تحت پناہ گزین صرف اسی ملک میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں جہاں وہ پہنچتے ہیں۔
- یورپی یونین کے رکن ملکوں کی سرحدوں کی بہتر نگرانی اور پناہ حاصل کرنے کے نظام میں بہتری۔







