’آسٹریلیا شام کے 12 ہزار تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں پناہ دے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty
آسٹریلیا نے کہا کہ وہ اپنے ملک میں مزید شامی پناہ تارکینِ وطن کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں درپیش امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے بدھ کو کہا ہے کہ آسٹریلیا ظلم کا شکار ہونے والے شام کے اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 12 ہزار افراد کو اپنے ملک میں پناہ دے گا۔
یہ افراد رواں سال 2015 میں آسٹریلیا پہنچنے والے 13 ہزار 750 پناہ گزینوں کے علاوہ ہوں گے۔
وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ آسٹریلیا شام میں صورت حال بہتر بنانے کے لیے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جاری جنگ میں بھی اپنے کردارمیں اضافہ کرے گا۔
آسٹریلیا کی فضائیہ گذشتہ 12 ماہ سے عراق میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے جبکہ گذشتہ ماہ امریکہ نے ُآسٹریلیا سے شام میں بھی دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں مدد کرنے کے لیے کہا تھا۔
ایڈنبرا میں ایک پریس کانفرنس میں وزیراعظم ایبٹ کا کہنا تھا کہ ’حالیہ ہنگامی صورت حال میں مزید لوگوں کو آسٹریلیا آنے کی اجازت دینا آسٹریلیا کی جانب سےانسانی بنیادوں پر کی جانے والی مدد کی کوششوں میں نمایاں اضافہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم 12 ہزار افراد کویہاں مستقل سکونت اختیار کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ اس کے لیے ہماری توجہ کا مرکز ظلم کا شکار ہونے والے اقلیتتی گروہوں سے تعلق رکھنے والی عورتیں، بچے اور خاندان ہیں جواس وقت عارضی بنیادوں پر اردن، لبنان اور ترکی میں پناہ گزین ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
حکومت مزید چار کروڑ 40 لاکھ آسٹریلین ڈالر اقوام متحدہ کو فراہم کرے گی تاکہ شام اور عراق کے پڑوسی ممالک میں مقیم پناہ گزینوں کی براہ راست مدد کی جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایبٹ پر پناہ گزینوں کو مزید امداد دینے اور انھیں اپنے ملک میں پناہ دینے کے لیے عوامی اورسیاسی سطح پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں ان کی اپنی جماعت کا دباؤ بھی شامل ہے۔
حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے مشرق وسطیٰ سے آنے والے تارکین وطن کے لیے مزید دس ہزار جگہیں وقف کرنے اور دس کروڑ آسٹریلین ڈالر کی امداد کا تقاضا کیا ہے۔
ایبٹ کی جماعت لبرل پارٹی کے کئی نمایاں نمائندوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ شام کے صرف مسیحی باشندوں کو پناہ دی جائے کیونکہ انھیں زیادہ ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس موقف پر نہ صرف دیگر سیاسی جماعتوں، مسلمان تنظیموں بلکہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر مدد دینے سے انکار غلط ہوگا۔







