جرمنی براستہ بلقان کیوں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, گوئے بیلونی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بلقان
جب سے مقدونیہ نے اپنے سرحدی علاقوں پر ایمرجنسی نافذ کی ہے تب سے ’بلقان روٹ‘ بدنام ہو گیا ہے۔
یورپ کے جنوب مشرق میں واقع اس چھوٹے سے ملک میں ہر روز مختلف ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ سے 3000 سے زائد تارکینِ وطن داخل ہوتے ہیں۔
لگ بھگ اتنی ہی تعداد سربیا اور ہنگری کی سرحد عبور کرتی ہے اور ان کا یہ سفر بالآخر جرمنی تک پہنچنے کی خواہش میں ہوتا ہے۔
یہ سب ایک اور اہم خروج کو نمایاں کرتا ہے جو کہ بلقان سے نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک سے ہورہا ہے۔
سنہ 2015 کے پہلے سات مہینوں میں جرمنی نے تارکینِ وطن کی جانب سے پناہ کے حصول کے لیے تقریباً دو لاکھ درخواستیں موصول کیں۔ ان درخواستوں میں سے ہر دس میں سے چار مغربی بلقان سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
تقریباً 30 ہزار افراد البانیہ سے آئے تھے، اتنی ہی تعداد اس کے ہمسایہ ملک کوسوو سے تھی۔ شام وہ واحد ملک تھا جہاں سے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی نے سنہ 2014 کے دوران البانیہ کے شہریوں کی جانب سے پناہ کی 8000 درخواستیں وصول کیں۔
90 کی دہائی میں تو کوسوؤ میں موجود البانوی نسل کے ہزاروں باشندوں کی جرمنی میں نقل مکانی مجبوری میں ہوئی تھی اور وجہ وہاں ہونے والی جنگ تھی۔ مگر اس بار وہاں سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کی ایسی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح البانیہ اینور ہوزہا کی کمیونسٹ ڈکٹیٹرشپ میں طویل دور کے بعد اب ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور ملک کے وزیراعظم ایدی راما اپنے ملک کے لیے یورپی یونین کی ممبر شپ حاصل کرنے کے لیے امیدوار بھی ہیں۔
لیکن دوسری جانب کوسوؤ اور البانیہ میں بہت سے عوامل مشترک بھی ہیں۔ مثلاً دونوں کی آبادی کم ہے جو کہ بلترتیب 30 لاکھ اور 20 لاکھ کے قریب ہے۔ وہاں البانوی نسل اکثریت میں ہے۔ اور اگر معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو ترقی کی رفتار کم ہے۔
جرمنی کی این جی اور فریڈرک ابرٹ فاؤنڈیشن کی پرسٹینا میں موجود شاخ کی جانب سے رواں سال جنوری اور فروری میں ایک سروے کرایا گیا۔ اس میں یہ نتائج سامنے آئے کہ کوسوؤ کے دارالحکومت سے نکلنے والے تقریباً تمام لوگوں نے خراب معاشی صورتحال ہی کی وجہ سے جرمنی میں ایک اچھی نوکری کی تلاش کی امید میں اپنا ملک چھوڑا۔
بی بی سی نے اسی عرصے میں مٹرویکا کے ایک قصبے میں موجود بہت سے نوجوانوں سے بات چیت کی۔ایک نوجوان لڑکے نے بتایا کہ کوسوؤ کے نوجوان ایسے تھے جیسے’ بند پنجرے میں پرندہ۔‘
قانونی طریقےسے یورپی ممالک میں داخلہ مشکل ہے جس کی وجہ ویزے کی پابندیاں ہیں۔ لیکن مقامی طور پر وہاں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 60 فیصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کچھ ایسی ہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر البانیہ سے بڑے پیمانے پر مقامی افراد کی نقل مکانی کی ہیں۔ یونان اور اٹلی کے معاشی بحران کے بعد البانیہ کے بہت سے باشندے اپنے ملک واپس لوٹ گئے جس کی وجہ سے بھی ملکی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ البانیہ میں اوسط ماہانہ آمدن 255 پاؤنڈ ہے جو کہ بہت ہی کم ہے۔
اب تک نہ تو البانیہ اور نہ ہی کوسوؤ سے تعلق رکھنے والے جرمنی کی اس فہرست میں شامل تھے جنھیں وہ اپنے لیے محفوظ قرار دیتا ہے۔ اگرچہ اب سب بدل چکا ہے مگر پناہ کے لیے دی جانے والی بہت سی درخواستیں قبول نہیں ہوتیں۔ ایک سال پہلے بہت سے لوگوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔
مگر سربیا، میسی ڈونیہ اور مونٹینگرو کے پناہ گزینوں کی درخواستوں کا کیا معاملہ ہے؟
اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جولائی تک وہاں ان ممالک کے 20 ہزار افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں دیں۔ ان میں سربیا کے درخواست گزاروں میں 90 فیصد سے زائد روما لوگ شامل تھے۔
اوپن سکیورٹی فاؤنڈیشن کے روما اقلیت پر کام کرنے والے ادارے کے اہلکار دریتن نیلاج کے مطابق بہت سے لوگ اس وقت بے سروسامانی کے عالم میں ہیں۔ ایک دہائی قبل مشرقی یورپ کے بہت سی ریاستوں کی جانب سے ان افراد کی مدد کی گئی تھی ۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ دس سال قبل مداد کا جو پیمانہ تھا وہ گر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وہاں روما کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے اور اسی وجہ سے اب وہ پناہ کی تلاش میں ملک سے نکل رہے ہیں۔ انھیں غیر رسمی آمدن پر گزر بسر کرنا پڑتی ہے۔ مارکیٹ میں وہ اپنی پوزیشن کھو چکے ہیں اور ان کی آمدن غائب ہورہی ہے اور ان کے لیے روزگار اور رہائش نہیں ہے۔
اب روما کے لیے جرمنی ایک پرکشش آپشن ہے۔ جہاں مغربی بلقان کی نسبت انھیں پناہ گزینوں کے قدرے بہتر مراکز میں جگہ مل سکے گی۔ بلکہ اس کے علاوہ انھیں ہر ماہ 140 یورو دیے جائیں گے۔
بلغراد میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اہلکار ملیتا سنجک کہتے ہیں کہ عام طور پر تارکینِ وطن چاہتے ہیں کہ پناہ ملنے کا عمل تیز ہو۔ مگر یہاں معاملہ محتلف ہے جس میں روما کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں پناہ نہیں ملے گی لیکن پھر بھی کم ازکم وہ یہاں محفوظ تو ہیں۔
کوسوؤ اور البانیہ سے لوگوں کی غیر معمولی نقل مکانی کے برعکس اس خطے کی روما اقلیت کے لیے یہ سارے سال کا مسئلہ ہے۔
نیلاج کا کہنا ہے کہ امتیازی سلوک کے باعث روما پناہ کے حصول کے جائزہ حقدار ہیں۔
ادھر ملیتا سنجک کا کہنا ہے کہ جب تک وہ خستہ حالی میں رہیں گے وہ جرمنی میں داخل ہونے کے لیے قسمت آزمائی کرتے رہیں گے۔







