’یورپ میں پناہ دینے کا نظام غیر فعال اور بدنظمی کا شکار‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے ہائی کمشنر نے یورپی اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پناہ دینے کے غیرفعال اور بدنظمی کے شکار نظام کی سربراہی کر رہا ہے۔
ہائی کمشنر انتونیو گوتیریش نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد اتنا وسیع ہے کہ اگر خود کو منظم کرے تو اپنی سرحدوں میں آنے والے پناہ گزینوں کو ضم کر سکتا ہے۔
امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق انتونیو گوتیریش نے پیرس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یورپی اتحاد مسئلے کو وقت سے پہلے دیکھنے میں ناکام رہا یا مربوط انداز میں اس سے نمٹ نہیں سکا۔
’28 ممالک کے اتحاد کی 50 کروڑ 80 لاکھ آبادی ہے اور اس کے پاس اتنے وسائل اور جگہ ہونی چاہیے کہ یہ آرام سے نئے آنے والے لاکھوں افراد کو ضم کر سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے مسئلے میں غیرضروری طور پر مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یورپ اتنا منظم نہیں ہے کہ اس سے نمٹ سکے کیونکہ اس کا پناہ دینے کا نظام بری طرح غیر فعال ثابت ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں مکمل طور پر بدنظمی کا شکار نظر آیا ہے۔
’اگر یورپ مناسب طور پر خود کو منظم کر لے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘
دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے متعلق بنیادی کوٹے میں اتفاق رائے ہونا ابھی بہت دور کی بات ہے تاہم کوٹے کے مخالفین کے موقف میں نرمی آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
انھوں نے کہا ہے کہ پناہ دینے کا بنیادی کوٹا اس جانب پہلا قدم ہے کہ یورپی اتحاد کا ہر ملک کتنے پناہ گزینوں کو اپناتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سویڈن کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ پناہ گزینوں سے متعلق یورپی کمیشن کی تجاویز پہلا اہم قدم ہے اور یورپی یونین کو پناہ کا حق رکھنے والوں کو رکھنے کے حوالے سے بنا کسی حد بندی کے نظام کو اپنانا چاہیے۔
دریں اثنا سپین اور پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے منصوبے کے برعکس اب زیادہ پناہ گزینوں کو رکھنے پر تیار ہے۔
اس سے پہلے جرمنی کے نائب چانسلر سگمار گیبریئل نے کہا ہے کہ جرمنی کئی برسوں تک ہر سال پناہ کے طلب گاروں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق صرف سنہ 2015 میں آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی تعداد متوقع ہے اور یہ 2014 کے اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے۔
سگمار گیبریئل نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ یورپی ممالک کو اس کا منصفانہ حصہ لینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یو این ایچ سی آر کہتی ہے کہ شامی گزینوں کی ریکارڈ تعداد سوموار کو مقدونیہ پہنچی اور تقریباً 30,000 تارکینِ وطن یونان کے جزیروں پر موجود ہیں۔
تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے یورپی حکومتوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے اور فوری ردِ عمل پر مجبور کر دیا ہے۔ ہنگری کی قدامت پسند قیادت سرحدوں پر باڑ لگا رہی ہے تاکہ پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکا جا سکے جبکہ جرمنی کی حکومت اس بات پر فخر محسوس کر رہی ہے کہ اس کے عوام کے ہجوم پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے آ رہے ہیں۔
یونان کے وزیر نے سوموار کو کہا تھا کہ ترکی کے ساحل کے نزدیک یونان کا لیزبوس جزیرہ تارکینِ وطن کے بوجھ سے تقریباً ’پھٹنے‘ والا ہے کیونکہ وہاں سے کم از کم 20,000 تارکینِ وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت اور یو این ایچ سی آر نے تارکینِ وطن کی مدد کے لیے اضافی سٹاف اور کشتیوں کا بندوبست کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
توقع ہے کہ اس سال جرمنی میں 800,000 تارکینِ وطن آئیں تاہم سگمار گیبریئل کہتے ہیں کہ لمبی مدت کے لیے مزید لوگوں کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے جرمنی کے زی ڈی ایف ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم کئی برسوں تک 500,000 افراد تک یقیناً لے سکتے ہیں ۔‘
’مجھ اس بارے میں کوئی شک نہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔‘
انھوں نے کہا کہ جرمنی غیر متناسب حصہ لے سکتا ہے لیکن یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک بھی اپنا حصہ ڈالیں۔
یو ایچ سی آر نے بھی تارکینِ وطن کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق 2015 میں سمندر کے راستے یورپ میں 400,000 تارکینِ وطن متوقع ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر شامی باشندے ہیں اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر اردن اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں برے حالات کی وجہ سے یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔
توقع ہے کہ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر بدھ کو رکن ممالک میں لازمی طور پر 160,000 پناہ گزین تقسیم کرنے کی تجویز پیش کریں گے جو کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب واحد حل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں پر خصوصی مندوب پیٹر سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ’تاریخ اسے یورپ کے اہم موڑ کے طور پر دیکھے گی۔‘
اس بحران نے یورپی یونین کے 28 ممالک کو تقسیم کر دیا ہے۔
ہنگری، جمہوریہ چیک، سلوینیا اور رومانیا نے کوٹے کے خیال کو ہی یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
یہ مسئلہ ہنگری میں سیاسی بحران بنتا جا رہا ہے۔ سوموار کو اس کے وزیرِ دفاع سابا ہیندے نے استعفیٰ دے دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق سرحد پر لگائی جانے والی باڑ سے ہے۔







