’یورپ تارکینِ وطن کےلیےجامع حکمت عملی وضع کرے‘

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یواین ايچ سی آر نے یورپی یونین کے تحت بڑے ریسپشن مراکز کے قیام کی بات کہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یواین ايچ سی آر نے یورپی یونین کے تحت بڑے ریسپشن مراکز کے قیام کی بات کہی ہے

یورپی ممالک کی جانب سے بارڈر کنٹرول متعارف کرانے کے بعد اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یواین ايچ سی آر نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کریں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں تارکینِ وطن پہنچ رہے ہیں وہاں ان کی سکرینگ کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سینیئر اہلکار زید راد الحسین کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کے اندراج کے نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے جہاں انسانی سمگلنگ کو روکنے میں مدد ملے گی وہیں مزید اموات سے بھی بچا جاسکے گا۔

دوسری جانب یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ کا تارکینِ وطن کے بحران کے مسئلے پر بات چیت کے لیے پیر کو ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں مختلف یورپی ممالک کے لیے تارکینِ وطن کے کوٹے کے منصوبے پر ووٹنگ بھی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ یورپی ممالک مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے وہ اپنے قوانین میں تبدیلی کا خواہاں ہیں۔

<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کا بحران:جرمنی بارڈر کنٹرول شروع کر ے گا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150913_refugees_eu_latest_atk" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> یورپی شہروں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150912_europe_refugees_rallies_zis" platform="highweb"/></link>

ملک میں ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنملک میں ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

آسٹریا، جرمنی، اور چیک ریپبلک سبھی اس ہفتے کے آخر سے سخت سرحدی قانون نافذ کرنے جا رہے ہیں۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد کی وجہ سے وہ دباؤ میں ہے کیونکہ صرف میونخ میں گذشتہ دو دنوں سنیچر اور اتوار کو کم از کم 16 ہزار تارکین وطن داخل ہوئے ہیں۔

زیادہ تر تارکین وطن مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزیادہ تر تارکین وطن مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں

دوسری جانب اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں فوری طور پر قیام امن کی اپنی فوج تعینات کرے۔ اس کے خیال میں اقوام متحدہ کی فوج کی موجودگی سے وہاں کے حالات بہتر ہوں گے اور تارکین وطن کے سیل رواں پر روک لگے گی۔

جرمن اور آسٹریائی ذرائع ابلاغ کے مطابق بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جرمنی اپنی سرحد پر روک تھام کا نظام متعارف کرائے گا۔

ایک معروف جرمن اخبار کے مطابق بارڈر کنٹرول کا نظام جرمنی اور آسٹریا کی سرحد پر نافذ کیا جائے گا۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ یہ نظام کیسا ہوگا۔

واضع رہے کہ اس سے پہلے جرمنی کے شہر میونخ میں حکام کا کہنا تھا کہ شہر میں مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینا مشکل ہے۔ شہر کے میئر ڈائیٹر ریٹر کے مطابق سنیچر کو 13,000 پناہ گزین میونخ پہنچے تھے جن کے لیے اب رہائش فراہم کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک سابق اولمپک سینٹر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا پڑے۔

سنيچر کو کئی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے حق میں مظاہرے ہوئے
،تصویر کا کیپشنسنيچر کو کئی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے حق میں مظاہرے ہوئے

میونخ کے میئر نے ملک کے دیگر شہروں کی جانب سے تارکینِ وطن کا بوجھ نہ بانٹنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

شامی پناہ گزینوں کے مسئلے پر ہی بات چیت کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اتوار کو سعودی عرب میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔

واضع رہے کہ شام میں جاری جنگ سے متاثرہ لوگوں کو پناہ نہ دینے پر حالیہ دنوں میں خلیجی ریاستوں کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

جبکہ دوسری جانب جمعے کو سعودی وزاتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں 2000,000 شامی افراد کو پناہ دی گئی ہے لیکن بعض حلقوں کی جانب سے ان اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

بعض علاقوں میں تارکینِ وطن کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty images

،تصویر کا کیپشنبعض علاقوں میں تارکینِ وطن کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے

مشرقی یورپ میں پناہ گزینوں کے مسئلے پر کشیدگی کے دوران ہنگری میں سنیچر کو ریکارڈ تعداد میں تارکینِ وطن داخل ہوئے تھے۔

اس سے قبل کہ ہنگری کے حکام سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنے کا کام مکمل کرتے چار ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن سربیا سے ہنگری میں داخل ہو گئے۔

خیال رہے کہ یورپ حالیہ مہینوں سے پناہ گزین کے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر افراد شام کے تشدد اور غربت سے بھاگ کر وہاں پہنچ رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک تھورپے نے ہنگری اور سربیا کی سرحد سے بتایا ہے کہ روسکے پناہ گزین کیمپ میں انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ڈھانچہ تیار ہوگیا ہے۔

ہنگری سربیا سے ملحق اپنی سرحد پر چار میٹر اونچی باڑ لگا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنہنگری سربیا سے ملحق اپنی سرحد پر چار میٹر اونچی باڑ لگا رہا ہے

جمعے کو پناہ گزینوں کے ساتھ جانوروں جیسے سلوک پر تنقید کے دوران ایک فٹیج میں یہ نظر آ رہا تھا کہ کیمپ میں پناہ گزینوں پر کھانے کے بیگ پھینکے جا رہے تھے۔

سنیچر کو آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کو نازی جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ روا سلوک کی طرح قرار دیا تھا۔

اس کے جواب میں ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارتو نے کہا کہ فیمین کا بیان توہین آمیز ہے۔

خیال رہے کہ اس بحران کی وجہ سے یورپی یونین میں شدید تقسیم سامنے آئی ہے۔

پناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک کے لیے ہنگری کی تنقید کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک کے لیے ہنگری کی تنقید کی جا رہی ہے

یورپی کمیشن نے 25 رکن ممالک میں مزید ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کو کوٹے کے حساب سے رکھنے کی بات کہی تھی لیکن چیک ریپبلک، ہنگری، پولینڈ اور سلوواکیا نے نئے لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کی مخالفت کی تھی۔

گذشتہ روز یورپ کے متعدد شہروں اور آسٹریلیا میں دسیوں ہزار لوگوں نے جلوس نکال کر پناہ گزینوں کی حمایت میں ’یومِ عمل‘ میں حصہ لیا۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں 30000 کے قریب لوگ پارلیمان کے باہر جمع ہوئے۔ وہ یہ نعرے لگا رہے تھے: ’زور سے بولو، پناہ گزینوں کا یہاں خیرمقدم ہے۔‘