حکومت پناہ گزینوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں سمجھے: کوربن

ہفتے کے روز لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے اپنے اولین خطاب میں پناہ گزینوں کے حقوق کی بات کی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہفتے کے روز لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے اپنے اولین خطاب میں پناہ گزینوں کے حقوق کی بات کی

برطانیہ میں حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے نئے رہنما جیرمی کوربِن نے سنیچر کو لندن میں ایک جلوس میں خطاب کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ’برطانیہ کی ذمہ داریاں‘ سمجھے۔

لیبر پارٹی کا نیا رہنما چنے جانے کے بعد جیرمی کوربن نے پہلا کام پارلیمنٹ سکوئر میں ایک مظاہرے میں شرکت کر کے کیا۔

پولیس کے ذرائع کے مطابق اس مظاہرے میں دسیوں ہزار افراد شریک تھے۔ اس قسم کے جلوس برطانیہ کے دوسرے شہریوں ایڈنبرا، گلاسگو اور کارڈف میں بھی نکالے گئے۔

لندن میں کوربن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ’اپنے دل و دماغ کو کھولے اور مصیبت زدہ لوگوں کی جانب اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے ان کی مدد کرے جو رہنے کے لیے محفوظ جگہ چاہتے ہیں اور جو ہمارے معاشرے میں کچھ کر کے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ہم سب کی طرح انسان ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’قانون آپ کو جو ذمہ داری دیتا ہے اسے پہچانیں، یہی اچھا ہو گا۔ لوگوں کی مدد کرنے کی ذمہ داری پہچانیں جو قانون بھی آپ سے کہتا ہے اور یہی بہتر ہو گا۔ اسی طرح کا انداز یقیناً آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔‘

کوربن کا کہنا تھا کہ جو لوگ بھاگ کر برطانیہ آنا چاہتے ہیں وہ ’جنگ، ماحولیاتی تباہی، غربت اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے مارے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے ہنگری اور آسٹریا کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے تارکینِ وطن کی مدد کی۔ ساتھ ہی انھوں نے جرمنی کے لیے بھی یہ کہتے ہوئے اظہارِ تشکر کا اظہار کیا کہ وہ تارکینِ وطن کی مدد کے لیے راضی ہے۔

گرین پارٹی کی رہنما نیٹلی بینٹ نے کہا کہ جیمز کیمرون کو ’یورپ میں (تارکینِ وطن کو آنے کی اجازت کا) منصفانہ طور پر ہمارا جو حصہ بنتا ہے، اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایک منظم پروگرام ترتیب دیا جائے تاکہ لوگوں کو ’اپنی زندگیاں سمگلروں کے ہاتھوں میں نہ دینی پڑیں۔‘

سماجی حقوق کے سرخیل شامی چکرابرتی نے، جو ’لبرٹی‘ کے ڈائریکٹر ہیں، لوگوں سے کہا: ’دیکھیے آپ نے آج کیا کر دکھایا ہے۔ آپ اپنے رہنماؤں کو شرم دلانے آئے ہیں کہ وہ آپ کی اور آپ کی اقدار کی نمائندگی کریں۔ آئیے اکٹھے ہوجائیے اور اپنے رہنماؤں کو شرم دلائیے کہ وہ تھوڑی سی ہی شائستگی دکھائیں۔‘