ریفیوجی ماریو: پناہ گزینوں کی مشکلات پر ویڈیو

اس وڈیو میں اکثر مقامات میں پر ریفیوجی ماریو کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے موت کر طرف لے جاتی ہیں
،تصویر کا کیپشناس وڈیو میں اکثر مقامات میں پر ریفیوجی ماریو کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے موت کر طرف لے جاتی ہیں

ترکی کے شہر استنبول کے ایک رہائشی نے شامی پناہ گزینوں کے یورپ میں داخلے کی حقیقت بیان کرنے کے لیے ننٹینڈو کی مشہور ویڈیو گیم سپر ماریو کو طنزیہ طور پر استعمال کیا ہے۔

اس ’ریفیوجی ماریو‘ یا پناہ گزین ماریو کے کردار کے ذریعے یو ٹیوب پر جاری ہونے والی اس ویڈیو میں ان ہزاروں افراد کے خطرناک سفر کو دکھایا گیا ہے جو یورپ میں پناہ کی تلاش میں آئے ہیں۔

ریفیوجی ماریو کو سمگلر بحیرۂ روم کے راستے ایک خطرناک سفر پر لے جاتے ہیں جہاں آخر کار اسے ہنگری کی سرحد پر تعینات محافظ پکڑنے کے بعد جیل میں ڈال دیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں اکثر مقامات میں پر مرکزی کردار کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے موت کر طرف لے جاتی ہیں۔

یہ ویڈیو ایک 29 سالہ شامی شخص سامر ال مفتی نے بنائی ہے جو استنبول میں رہتے ہیں۔ یہ ان کا فرضی نام ہے سکیورٹی خدشات کے باعث انھوں نے اپنا اصل نام ظاہر نہیں کیا۔

آن لائن فار میڈیا پروڈکشن نامی کمپنی اکثر شام کی سیاست پر طنزیہ مواد بناتی رہتی ہے
،تصویر کا کیپشنآن لائن فار میڈیا پروڈکشن نامی کمپنی اکثر شام کی سیاست پر طنزیہ مواد بناتی رہتی ہے

ایسی وڈیو بنانے کا خیال انھیں آیا کیسے آیا؟ اس بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’میرے بہت سے دوست یورپ کی جانب گئے ہیں، ان سے بات کرنے کے بعد مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ ان سب پر کیا گزری ہے اور کیسے ان سب نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔‘

انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’پانچ ماہ قبل میرا بہت اچھا دوست ازمیر سے یونان جاتے ہوئے سمندر میں ڈوب گیا۔ جس کشتی پر وہ سوار تھا اس کا انجن پھٹ گیا تھا۔ جس کے بعد مجھے یہ ویڈیو بنانے کا خیال آیا۔‘

’اس کے لیے ایک ایسے سادہ اور واضح تصور یا خیال کی ضرورت تھی جسے کسی زبانوں کی ضرورت نہ ہو۔ میں نے سپر ماریو کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہ پوری دنیا میں مشہور ہے یہ بلکل موسیقی کی طرح ہے، ایک عالمی زبان۔‘

شام کی سیاست پر طنزیہ مواد بنانے والی آن لائن فار میڈیا پروڈکشن نامی کمپنی کی جانب سے اسے فیس بک اور یوٹیوب پر ڈالنے کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد یہ ویڈیو دیکھ چکے ہیں۔

سامر کا کہنا ہے کہ ’اس پر بہت بات ہو رہی ہے جس نے مجھے حیران کر دیا ہے یہ صرف شام کے لوگ ہی نہیں دیکھ رہے بلکہ دنیا بھر کے لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘