ایم ایچ 17 کےملبےسے روسی میزائل کے ٹکڑے برآمد

 مغربی ممالک اس سے پہلے بھی الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ اس طیارے کو روس کے فراہم کردہ میزائل سے نشانہ بنایاگیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن مغربی ممالک اس سے پہلے بھی الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ اس طیارے کو روس کے فراہم کردہ میزائل سے نشانہ بنایاگیا تھا

ہالینڈ کےتفتیش کارروں نے پتہ چلایا ہے کہ گذشتہ برس جولائی میں یوکرین کی فضائی حدود میں تباہ ہونے والے ملائشین ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 17 کے ملبے سے ’مشتبہ روسی میزائل‘ کے ٹکڑے ملے ہیں۔

تفتیش کارروں کا کہنا ہے کہ ایم ایچ کے ملبے سے ملنے والے ٹکڑے ’بوک‘ نامی زمین سے فضا میں مارے کرنے والے روسی میزائل سسٹم کا ’ممکنہ‘ طور پر حصہ ہیں۔

ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جانے والے اس طیارے کو 17 جولائی 2014 کو مشرقی یوکرین کے اوپر مار گرایا گیا تھا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے 196 کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔

مغربی ممالک اس سے پہلے بھی الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ اس طیارے کو روس کے فراہم کردہ میزائل سے نشانہ بنایاگیا تھا۔

جس جگہ یہ طیارہ گرا وہ علاقہ روس نواز باغیوں کے زیرِ اثر تھا، تاہم روس اور روسی نواز باغی جہاز مار گرانے کے الزام کو رد کرتے رہے ہیں۔

روس الزام عائد کرتا رہا ہے کہ طیارہ یوکرینی حکومت کے فوجیوں نے گرایا تھا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ڈچ سیفٹی بورڈ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ روسی میزائل کے ’مشتبہ‘ ٹکڑے شمالی یوکرین میں تباہ شدہ طیارے ملبے کی تلاش کے دوران حاصل کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ٹکڑے فوجداری تحقیق کارروں کی خصوصی دلچسپی کے حامل ہیں جو انھیں یہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں کہ طیارے کی تباہی میں کس کا ہاتھ تھا۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ ابھی تک یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا جا سکتا کہ ایم ایچ 17 کی تباہی اور ملبے سے ملنے والے میزائل کے ٹکڑوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔