ایم ایچ 17 حادثے کی پہلی برسی پر یادگاری تقاریب

،تصویر کا ذریعہGetty
ملائیشن ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 17 کو پیش آنے والے حادثے کی پہلی برسی کے موقعے پر دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم سے کولالمپور جانے والے اس طیارے کے بارے میں عام خیال ہے کہ اسے روس نواز باغیوں نے گرایا تھا اور اس حادثے میں 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
روس نہ صرف اس کی ترید کرتا ہے بلکہ اس کا موقف ہے کہ مشرقی یوکرین میں گرنے والے اس طیارے کو حکومتی افواج نے نشانہ بنایا ہے۔
اس سلسلے میں یوکرین میں جائے حادثہ کے قریب اور ہالینڈ میں دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
آسٹریلیا جس کے 39 شہری اس حادثے میں ہلاک ہوئے تھے پہلے ہی اس سلسلے میں یادگاری تقریب منعقد کر چکا ہے۔
آسٹریلیا میں ہونے والی تقریب کا انعقاد پارلیمنٹ میں کیا گیا اور اس موقعے پر وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا ہم پر یہ قرض ہے کہ ہم مجرموں کو انصاف کے کہٹرے میں لائیں۔
ٹونی ایبٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’ ان کے جانے سے ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جو پر نہیں کیا جا سکتا اور حادثے کے زخم اب بھی تازہ ہیں۔‘
تقریب کے بعد آسٹریلوی وزیرِاعظم نے ہلاک ہونے والوں کے اہل و عیال سے بھی ملاقات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین میں تقریب سے قبل جائے حادثہ کے قریب واقع گاؤں گرابوؤ میں یادگاری پتھر کی نقاب کشائی کی گئی۔
ہالینڈ میں ہونے والی تقریب کے دوران ہلاک ہونے والے تمام افراد کے نام ان کے رشتہ دار پڑھیں گے۔
عید کی وجہ سے ملائیشیا میں یاد گاری تقریب 11 جولائی کو ہی منعقد کر دی گئی تھی۔ اس تقریب میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے نام لینے کے علاوہ ہر شخص کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تھی۔
جمعرات کو روسی صدر ولادی میر پوتن نے برطانیہ، آسٹریلیا، ہالینڈ، ملائیشیا اور یوکرین کی جانب سے طیارے کو گرانے میں ملوث مشتبہ افراد پر مقدمہ چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے ٹربیونل کے قیام کے مطالبے کو رد کر دیا۔
اس حوالے سے روس کا کہنا ہے کہ اگر جلد بازی کی گئی تو شفاف تحقیقات نہیں کی جا سکیں گی۔ روس نے سانحے کی میڈیا کوریج کو بھی سیاسی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ طیارے میں سوار تمام افراد اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور مرنے والوں میں 193 ہالینڈ کے شہری 43 ملائیشین شہری 27 آسٹریلوی 12 انڈونیشیائی اور 10 برطانوی شہری تھے۔








