’ملیشیائی طیارے سے متعدد اشیا ٹکرائی تھیں‘

ملائیشیا کا یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے شخترسک کے درمیان 17 جولائی کو گر کر تباہ ہو گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملائیشیا کا یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے شخترسک کے درمیان 17 جولائی کو گر کر تباہ ہو گیا تھا

ہالینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کا طیارہ ایم ایچ 17 متعدد چیزوں سے تیز رفتاری کے ساتھ ٹکرایا تھا جس کے بعد وہ فضا ہی میں تباہ ہوگیا تھا۔

ہالینڈ کے سیفٹی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کے کوئی شواہد نہیں پائے گئے ہیں۔‘

طیارے میں موجود تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسے مشرقی یوکرین کے روس نواز باغیوں نے نشانہ بنایا ہے۔

یہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کے لیے پرواز کر رہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں تباہ ہو گیا۔

ہوابازی کی جانچ کرنے والے ہالینڈ کے تفتیش کاروں نے جائے حادثہ پر طیارے کے بلیک باکس ڈیٹا ریکارڈر، ایئر ٹریفک کنٹرول اور سیٹیلائٹ تصاویر سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر یہ بنیادی رپورٹ تیار کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’طیارہ فضا میں ہی ٹوٹ گیا تھا، اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ باہر سے تیز رفتاری کے ساتھ آنے والی متعدد اشیا سے ٹکرایا تھا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاک پٹ میں آواز کو ریکارڈ کرنے والے آلے سے کسی قسم کی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورت حال کی نشاندہی نہیں ہوتی۔

طیارے میں موجود تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر ہالینڈ کے باشندے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطیارے میں موجود تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر ہالینڈ کے باشندے تھے

نیدرلینڈز میں بی بی سی کی اینا ہولیگن کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے کا شکار ہونے کے سلسلے میں یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے تاہم یہ معلومات اہم ہیں کیونکہ یہ اس بابت پہلا سرکاری ثبوت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حادثے میں کسی پر الزام نہیں لگایا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گيا ہے تاہم اس کے متعلق ہیگ میں مجرمانہ تفتیش کی جا رہی ہے۔

ملائیشیا کا یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے شخترسک کے درمیان 17 جولائی کو گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

یوکرین کی حکومت اور بہت سے مغربی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ اسے روس نواز باغیوں نے بک نامی طیارہ شکن میزائل سے مار کر گرایا ہے۔

روس مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس نے باغیوں کو کوئی میزائل یا اسلحہ فراہم کیا ہے۔

برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، ملائیشیا، امریکہ، یوکرین اور روس کے ماہرین اس معاملے میں تعاون کر رہے ہیں۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ اسے ایک سال کے اندر حتمی رپورٹ شائع ہونے کی امید ہے۔