’ملیشیائی طیارے سے متعدد اشیا ٹکرائی تھیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ہالینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کا طیارہ ایم ایچ 17 متعدد چیزوں سے تیز رفتاری کے ساتھ ٹکرایا تھا جس کے بعد وہ فضا ہی میں تباہ ہوگیا تھا۔
ہالینڈ کے سیفٹی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کے کوئی شواہد نہیں پائے گئے ہیں۔‘
طیارے میں موجود تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اسے مشرقی یوکرین کے روس نواز باغیوں نے نشانہ بنایا ہے۔
یہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کے لیے پرواز کر رہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں تباہ ہو گیا۔
ہوابازی کی جانچ کرنے والے ہالینڈ کے تفتیش کاروں نے جائے حادثہ پر طیارے کے بلیک باکس ڈیٹا ریکارڈر، ایئر ٹریفک کنٹرول اور سیٹیلائٹ تصاویر سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر یہ بنیادی رپورٹ تیار کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’طیارہ فضا میں ہی ٹوٹ گیا تھا، اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ باہر سے تیز رفتاری کے ساتھ آنے والی متعدد اشیا سے ٹکرایا تھا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاک پٹ میں آواز کو ریکارڈ کرنے والے آلے سے کسی قسم کی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورت حال کی نشاندہی نہیں ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نیدرلینڈز میں بی بی سی کی اینا ہولیگن کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے کا شکار ہونے کے سلسلے میں یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے تاہم یہ معلومات اہم ہیں کیونکہ یہ اس بابت پہلا سرکاری ثبوت ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حادثے میں کسی پر الزام نہیں لگایا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گيا ہے تاہم اس کے متعلق ہیگ میں مجرمانہ تفتیش کی جا رہی ہے۔
ملائیشیا کا یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے شخترسک کے درمیان 17 جولائی کو گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
یوکرین کی حکومت اور بہت سے مغربی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ اسے روس نواز باغیوں نے بک نامی طیارہ شکن میزائل سے مار کر گرایا ہے۔
روس مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس نے باغیوں کو کوئی میزائل یا اسلحہ فراہم کیا ہے۔
برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، ملائیشیا، امریکہ، یوکرین اور روس کے ماہرین اس معاملے میں تعاون کر رہے ہیں۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ اسے ایک سال کے اندر حتمی رپورٹ شائع ہونے کی امید ہے۔







