’روس مبصرین کی مکمل رسائی کو یقینی بنائے‘

،تصویر کا ذریعہAP
مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ روس یوکرین میں باغیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ جمعرات کو گر کر تباہ ہو جانے والے ملائیشیا ایئرلائن کے طیارے کی جائے حادثہ تک مکمل رسائی فراہم کریں۔
ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسی صدر ولادمیر پوتن سے کہا ہے کہ اس بات کا وقت گزرتا جا رہا ہے کہ روس اس حوالے سے اپنی مدد کا مظاہرہ کر سکے۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والے زیادہ مسافروں کا تعلق ہالینڈ سے تھا۔
برطانیہ نے بھی روسی سفیر سے ایسا ہی مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مبصرین کی نقل و حرکت روس حامی باغیوں نے محدود کر رکھی ہے۔
یوکرین اور روس حامی باغی دونوں ہی اس طیارے کو مار گرانے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔
ادھر یوکرین کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز یوکرینی باغی ملائیشیا کے تباہ شدہ طیارے کی تباہی کے ’عالمی جرم‘ کے شواہد کو مٹا رہے ہیں۔
یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ روسی حمایت یافتہ باغی دوسرے روز بھی بین الاقوامی مبصرین کی ٹیم کو تباہ شدہ طیارے ایچ 17 تک رسائی نہیں دے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملائیشیا کا مسافر بردار طیارہ جمعرات کو یوکرین کی فضائی حدور میں تباہ ہوگیا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والےمیزائل کی زد میں آ کر تباہ ہوا ہے۔
یوکرین کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی نواز باغیوں نے 38 لاشوں کو باغی کے کنٹرول والے علاقے ڈونیسک کے مردہ خانے لے کر گئے ہیں۔
یوکرینی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز باغی طیارے کے ملبے کو روس لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یوکرین نے کہا ہے کہ باغی او ایس سی ای کے ٹیم دوسرے روز بھی طیارہ کے ملبے تک پہنچے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
25 ارکان پر مشتمل مبصروں کی ٹیم پہلے روز صرف ایک گھنٹے میں واپس آ گئی تھی۔
او ایس سی ای ٹیم کے ایک رکن مائیکل بوسیورکیو نے کہا کہ باغیوں کے کمانڈر کی جانب سے یقین دہانی کے طیارے تک ان کی رسائی کو محدود کیا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بوسیورکیو نے کہا کہ ’جب ایک مبصر مجوزہ علاقے سے آگے جانے لگا تو ایک مسلح افراد نے اپنی رائفل سے ہوا میں فائر کیا وہ بظاہر نشے میں نظر آ رہا تھا۔‘۔
ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مسٹر بوسیورکیو نے کہا کہ متعدد لاشوں کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن انھیں ان عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ امدادی کارکنوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا ہٹانا کس کی ذمہ داری ہے۔
اوایس سی ای کی مستقل کونسل میں سوئٹزرلینڈ کے چیئرمین تھومس گریمنگر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اس معاملے میں ایک بین الاقوامی جانچ ہو سکے۔
یوکرین کی خانہ جنگی میں فریقین نے ایک دوسرے پر اس طیارے کو میزائل کے ذریعے مار گرانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائشیا ائیر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کو یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
صدر اوباما نے جمعے کو کہا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر امداد ملتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے طیارہ مار گرانے کے واقعے کو ناقابلِ بیان اور اندوہ ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا طیارے پر سوار مسافروں کا یوکرین میں جاری کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
براک اوباما نے یوکرین میں فوری جنگی بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں طیارہ تباہ ہونے کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہوں۔
یوکرین نے اس علاقے کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازیں مشرقی یوکرین کے فضائی راستے سے ہو کر نہیں جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 295 افراد سوار تھے۔ خدشہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔
ملائشیا ایئر لائنز کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق طیارے پر 192 ولندیزی، 27 آسٹریلوی، 44 ملائیشیائی (جن میں 15 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں)، 12 انڈونیشیائی اور 10 برطانوی مسافر سوار تھے۔ دیگر مسافروں کا تعلق جرمنی، بیلجیئم، فلپائن اور کینیڈا سے تھے۔
ہلاک ہونے والے مسافروں میں مشہور ولندیزی محقق یوئپ لانگ بھی شامل ہیں جو آسٹریلیا میں ایڈز پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔







