گمشدہ طیارہ: وزیر اعظم نجیب آسٹریلیا پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہ
ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے دورے پر ہیں جہاں سے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔
جمعرات کی صبح جب ملائیشیا کے وزیراعظم فوجی اڈے پر پہنچے تو انھیں سرچ آپریشن کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی۔
واضح رہے کہ اسی اڈے سے لاپتہ طیارے کے لیے جہاز روانہ کیے جا رہے ہیں اور یہیں سے تلاش کے کام کی رہنمائی ہو رہی ہے۔
بعد میں وہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ سے بھی ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ ملائیشیا سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔
متعدد طیارے اور بحری جہاز بحر ہند کے جنوب میں تلاش میں کوشاں ہیں جہاں ان کے تباہ ہونے کا خطرہ ظاہر کیا گيا ہے۔
تلاش کا دائرہ تقریبا سوا دو لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط ہے جو جنوبی بحر ہند میں پرتھ سے 1500 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس طیارے کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہےلیکن ابھی تک اس کا ایک بھی ٹکڑا نہیں مل سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نجیب رزاق نے جمعرات کی صبح پرتھ کے نزدیک فضائیہ کے فوجی اڈے پیئرز آر اے اے ایف پر تلاش میں شامل حکام سے ملاقات کی۔
انھوں نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ہم لوگ ممالک کے ایک گروپ کی حیثیت سے یہ دکھا دیں گے کہ ہم ایک ساتھ مل کر کیا کر سکتے ہیں، ہمیں جواب چاہیے، ہمیں متاثرہ خاندانوں کو تسلی دینی ہے اور ہم لوگ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمیں جواب نہیں مل جاتا۔‘
وزیر اعظم نجیب جوائنٹ ایجنسی کوارڈینیشن سنٹر (جے اے سی سی) کا دورہ کریں گے جہاں سے وہ ٹونی ایبٹ سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرنے والے ہیں۔
واضح رہے کہ جے اے سی سی جنوبی بحر ہند میں تلاش کی سربراہی کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشیا کے حکام کو طیارے کی تلاش کے انتظام کے لیے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے، بطور خاص چین کے 153 مسافروں کے لواحقین کی جانب سے۔
جمعرات کو مختلف ممالک کے آٹھ طیارے اور نو بحری جہاز تلاش میں نکلیں گے۔ جے اے سی سی کا کہنا ہے کہ موسم خوشگوار ہے اور حدِ بصارت تقریباً دس کلومیٹر تک ہے۔
ملائیشیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کے غائب ہونے کا راز شاید کبھی سامنے نہ آ سکے اور یہ سربستہ ہی رہ جائے۔
ملائیشیا کے پولیس چیف خالد ابوبکر نے کہا ہے کہ ’اس سلسلے میں مجرمانہ تفتیش جاری رہے گی، ہمیں تمام چیزوں کی وضاحت کرنی ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’یہ عین ممکن ہے کہ جانچ کے خاتمے پر بھی ہمیں اصل وجہ کا پتہ نہ چلے، یہاں تک کہ ہم اس واقعے کی وجوہات سے بھی لاعلم رہ جائیں۔‘







