’باغیوں نے مبصرین کی طیارے تک رسائی محدود کردی‘

،تصویر کا ذریعہAP
بین الاقوامی مبصرین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ یوکرین کے روس نواز حامیوں نے ملائیشیا کے تباہ شدہ طیارے ایم ایچ 17 تک ان کی رسائی کو محدود کر دیا ہے۔
یورپ کی سلامتی اور تعاون کی بین الاقوامی تنظیم او ایس سی ای کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طیارے کے ملبے تک رسائی مسلح افراد کے کنٹرول میں ہے جبکہ ایک ہوا میں گولیاں چلا رہا تھا۔
یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملائیشیا کا مسافربردار طیارہ ایم ایچ 17 زمین سے فضا میں نشانہ لگانے والے میزائل کا شکار ہوکر تباہ ہو گيا۔
او ایس سی ای ٹیم کے ایک رکن مائیکل بوسیورکیو نے کہا کہ باغیوں کے کمانڈر کی جانب سے یقین دہانی کے طیارے تک ان کی رسائی کو محدود کیا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بوسیورکیو نے کہا کہ ’جب ایک مبصر مجوزہ علاقے سے آگے جانے لگا تو ایک مسلح افراد نے اپنی رائفل سے ہوا میں فائر کیا وہ بظاہر نشے میں نظر آ رہا تھا۔‘
25 ارکان پر مشتمل مبصروں کی ٹیم صرف ایک گھنٹے میں واپس آ گئی اور وہ طیارے کے تباہ ہونے کی جانچ کے لیے مخصوص ٹیم کے لیے راستہ طے نہیں کر سکی۔
ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مسٹر بوسیورکیو نے کہا کہ متعدد لاشوں کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن انھیں ان عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ امدادی کارکنوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا ہٹانا کس کی ذمہ داری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اوایس سی ای کی مستقل کونسل میں سوئٹزرلینڈ کے چیئرمین تھومس گریمنگر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اس معاملے میں ایک بین الاقوامی جانچ ہو سکے۔
یوکرین کی خانہ جنگی میں فریقین نے ایک دوسرے پر اس طیارے کو میزائل کے ذریعے مار گرانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائشیا ائیر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کو یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
صدر اوباما نے جمعے کو کہا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر امداد ملتی رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے طیارہ مار گرانے کے واقعے کو ناقابلِ بیان اور اندوہ ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا طیارے پر سوار مسافروں کا یوکرین میں جاری کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
براک اوباما نے یوکرین میں فوری جنگی بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں طیارہ تباہ ہونے کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہوں۔
یوکرین نے اس علاقے کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازیں مشرقی یوکرین کے فضائی راستے سے ہو کر نہیں جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 295 افراد سوار تھے۔ خدشہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔
ملائشیا ایئر لائنز کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق طیارے پر 173 ولندیزی، 27 آسٹریلوی، 44 ملائیشیائی (جن میں 15 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں)، 12 انڈونیشیائی اور نو برطانوی مسافر سوار تھے۔ دیگر مسافروں کا تعلق جرمنی، بیلجیئم، فلپائن اور کینیڈا سے تھے۔
ہلاک ہونے والے مسافروں میں مشہور ولندیزی محقق یوئپ لانگ بھی شامل ہیں جو آسٹریلیا میں ایڈز پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔







