’طیارہ گرانے میں روس کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں‘

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ جولی بشپ نے روس نواز باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی حکومت کے ساتھ کشیدگی کی فضا میں ان لاشوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہ کریں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ جولی بشپ نے روس نواز باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی حکومت کے ساتھ کشیدگی کی فضا میں ان لاشوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہ کریں

امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ روس کے خلاف یوکرین میں ملائیشیا ایئر لائنز کے طیارے کو گرانے میں ملوث ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں۔

جان کیری نے روس پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرے۔ انھوں نے کہا کہ باغی طیارے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو نکالنے کے معاملے سے ’بری طرح‘ نمٹے ہیں۔

ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 گذشتہ جمعرات کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہوگئے۔

روس پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین میں روس نواز باغیوں کو طیارہ شکن نظام فراہم کیا تھا جسے مبینہ طور پر ملائیشیا کے طیارے کو مار گرانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

جان کیری نے ایک امریکی ٹی پر کہا کہ ’کافی شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ روس نے یہ طیارہ شکن نظام باغیوں کو فراہم کیا اور انھیں ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی تربیت دی۔‘

روس پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین میں روس نواز باغیوں کو طیارہ شکن نظام فراہم کیا تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین میں روس نواز باغیوں کو طیارہ شکن نظام فراہم کیا تھے

مشرقی یوکرین میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے جہاز کی جائے حادثہ سے کُل 196 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جن میں سے 169 لاشوں کو ایک ایئر کنڈیشنڈ ٹرین میں بند کر کے کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

بین الاقوامی مبصرین کو بتایا گیا کہ لاشیں 15 کلومیٹر دور ایک قریبی شہر ٹورس بھیجی گئی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ جولی بشپ نے روس نواز باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی حکومت کے ساتھ کشیدگی کی فضا میں ان لاشوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملائشیا ایئر لائن کے مسافر بردار طیارے کو اپنی معمول کی پرواز کے دوران میزائل مار کر گرایا گیا۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی تفتیش کاروں کو ابھی تک جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ روس یوکرین میں باغیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ طیارے کی جائے حادثہ تک تفتیشی ماہرین کو مکمل رسائی فراہم کریں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اگر روسی موقف میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو منگل کو ہونے والے یورپی یونین کے خارجہ حکام کے اجلاس میں روس کے خلاف تادیبی پابندیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

یوکرین اور روس حامی باغی دونوں ہی ایک دوسرے پر اس طیارے کو مار گرانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

یوکرین کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی نواز یوکرینی باغی ملائیشیا کے تباہ شدہ طیارے کے ملبے سے ایسے ممکنہ شواہد کو مٹا رہے ہیں جو عالمی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔