ایم ایچ 17: جائے حادثہ سے ملنے والی لاشیں ہالینڈ کے لیے روانہ

،تصویر کا ذریعہGetty
مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہونے والے ملائیشیا ایئر لائن کے طیارے کی جائے حادثہ سے برآمد ہونے والی لاشیں شناخت کے لیے نیدرلینڈز روانہ کر دی گئی ہیں۔
اس موقعے پر نیدرلینڈز میں یومِ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پانچ روز قبل ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مسافر بردار جہاز اپنے معمول کے راستے پر اڑتے ہوئے میزائل لگنے سے گرا تھا۔
یہ بوئنگ 777 لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 298 مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نیدرلینڈز کے شہری تھے۔
امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ یہ طیارہ روس کے حامی باغیوں نے غلطی سے گرایا ہے، تاہم کئی روز تک وہ اس کا الزام روس پر لگاتے رہے ہیں۔ حالیہ پریس کانفرنس میں انٹیلی جنس حکام نے اعتراف کیا کہ اب تک اس حادثے کے روس سے براہِ راست تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
منگل کے روز حکومتی کنٹرول میں شہر خارکیو سے ایک خصوصی ٹرین کی مدد سے 200 لاشوں کو نیدرلینڈز کے لیے روانہ کیا گیا۔ بقیہ لاشوں اور اہم شواہد کی تلاش جاری ہے۔
روس کا اصرار ہے کہ اس حملے کے ذمہ دار یوکرین کے سرکاری فوجی ہیں تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ روسی دعویٰ درست ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
ایم ایچ 17 سے ملنے والی لاشوں کی آمد نیدرلینڈز کے شہر ایندہون میں مقامی وقت کے مطابق شام چار بحے متوقع ہے۔ اس موقعے پر نیدرلینڈز کے شاہی خاندان کے اراکین اور وزیراعظم مارک روت بھی موجود ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذمہ دار کون؟
یاد رہے کہ روس نواز باغیوں نے یوکرین میں گرنے والے مسافر طیارے ایم ایچ 17 کے دو فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ملائیشی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔
روس نواز باغیوں کے ایک سینئیر رہنما نے یوکرین کے شہر دونیتسک میں ہونے والی ملاقات میں ان فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز کو ملائیشین حکام کے حوالے کیا۔
واضح رہے کہ ڈیٹا ریکارڈرز کی یہ حوالگی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی ایک قراردار کے چند گھنٹوں کے بعد عمل میں آئی۔
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے یوکرین میں باغیوں کے علاقے میں تباہ ہونے والے ایک مسافر طیارے کی جائے حادثہ تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’بلیک باکسز‘ کے ذریعے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا صحیح وقت معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔
ملائیشیا کے وفد کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ طیارے کے ریکارڈر ’اچھی حالت‘ میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روس نواز باغیوں نے ملائیشیا ایئر لائنز کے طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو خارکیو لے جانے اور پھر انھیں بین الاقوامی ماہرین کے حوالے کرنے کی اجازت دی تھی۔
روس پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین میں روس نواز باغیوں کو طیارہ شکن نظام فراہم کیا تھا جسے مبینہ طور پر ملائیشیا کے طیارے کو مار گرانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس سے قبل امریکی صدر اوباما نے جمعے کو کہا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر امداد ملتی رہی ہے۔
انھوں نے طیارہ مار گرانے کے واقعے کو ناقابلِ بیان اور افسوس ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا طیارے پر سوار مسافروں کا یوکرین میں جاری کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ادھر باغیوں کے زیرِ اثر یوکرین کے مرکزی شہر دونیتسک میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
دونیتسک میں موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے ہوائی اڈے اور ریلوے سٹیشن کے نزدیک تشدد کے واقعات ہوئے۔







