حادثے کا ذمہ دار کون؟

یوکرینی حکومت اور باغیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی

ملائیشین ایرلائنز کا یہ پانچ ماہ میں دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں غائب ہونے والا طیارہ بھی اسی کمپنی کا تھا۔
،تصویر کا کیپشنملائیشین ایرلائنز کا یہ پانچ ماہ میں دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں غائب ہونے والا طیارہ بھی اسی کمپنی کا تھا۔
1997 میں بنائے جانے والے اس طیارے کا ریکاڈ بالکل صاف تھا اور اسے آخری بار 11 جولائی کو چیک کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشن1997 میں بنائے جانے والے اس طیارے کا ریکاڈ بالکل صاف تھا اور اسے آخری بار 11 جولائی کو چیک کیا گیا تھا۔
ملائیشین وزیرِ اعظم کے مطابق حادثے سے پہلے طیارے نے کسی قسم کے خطرے کا اشارہ نہیں دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنملائیشین وزیرِ اعظم کے مطابق حادثے سے پہلے طیارے نے کسی قسم کے خطرے کا اشارہ نہیں دیا تھا۔
ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جانے والی اس فلائٹ میں ہالینڈ کے 173 شہری سوار تھے۔
،تصویر کا کیپشنایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جانے والی اس فلائٹ میں ہالینڈ کے 173 شہری سوار تھے۔
جہاز میں 27 آسٹریلین شہری بھی سوار تھے۔
،تصویر کا کیپشنجہاز میں 27 آسٹریلین شہری بھی سوار تھے۔
آسٹریلین وزیِرخارجہ جولی بشپ نے آسٹریلیا میں موجود روسی سفیر سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ روسی حکومت تحقیقات میں تعاون کرے۔
،تصویر کا کیپشنآسٹریلین وزیِرخارجہ جولی بشپ نے آسٹریلیا میں موجود روسی سفیر سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ روسی حکومت تحقیقات میں تعاون کرے۔
یوکرین کی حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے پر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تاحال یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کس گروہ نے طیارے کو نشانہ بنایا۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین کی حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے پر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن تاحال یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کس گروہ نے طیارے کو نشانہ بنایا۔