سکاٹ لینڈ آخر آزادی کیوں چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, اینڈریو بلیک
- عہدہ, بی بی سی، سکاٹ لینڈ
18 سمتبر کو سکاٹ لینڈ کے ووٹر ریفرینڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ برطانیہ کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں یا الگ ہونا چاہتے ہیں۔
خودمختاری کی حامی سکاٹش نیشنل پارٹی سنہ 2011 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی اور واضح برتری کے باعث وہ آج اس قابل ہے کہ وہ یہ ریفرینڈم کروا سکے۔
ریفرینڈم کے روز سکاٹ لینڈ کے لوگ پولنگ سٹیشنوں پر جا کر اس سوال کا ہاں یا نہ میں جواب دیں گے کہ آیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں۔
ریفرینڈم کی مخالفت اور حمایت میں دلائل
منسٹر ایلیکس سیمنڈ کی قیادت میں سکاٹش حکومت کا موقف ہے کہ 300 سال سے جاری یہ اتحاد اب بے مقصد ہے اور آزاد ہونے کے بعد سکاٹ لینڈ اپنی تیل کی دولت کی بدولت دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔ ان کے بقول سکاٹ لینڈ کو لندن میں قائم حکومت کی زنجیروں سے آزاد ہونا ہے۔
اس بحث کی مخالف وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی قیادت والی برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ متحدہ برطانیہ دنیا کا کامیاب ترین معاشی اور سیاسی مملکتوں میں سے ایک ہے۔
بڑے مسائل کیا ہیں

،تصویر کا ذریعہ
حالیہ مہینوں میں دو بڑے مسائل کرنسی اور تیل کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔
جہاں تک تیل کی بات ہے تو شمالی سمندر میں تیل اور گیس کے ذخائر سکاٹش حکومت کی جانب سے آزادی کے مطالبے کی بڑی وجہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایلیکس سیمنڈ کا کہنا ہے کہ تیل کے زرِ مبادلہ کی سالانہ ایک ارب پاؤنڈ بچت کرنے سے ایک نسل کے بعد یہی ذخیرہ 30 ارب پاؤنڈ کا ہو جائے گا۔
دوسری جانب مسٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ شمالی سمندر ہمیشہ سے برطانوی ترقی کا ذریعہ رہے ہیں لیکن اب یہاں سے تیل اور گیس کا حصول پہلے سے مشکل ہو گیا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ صنعت متحدہ برطانیہ کے زیرِ انتظام رہے۔
سکاٹش نیشنل پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں میں ایک ایسی چیز کی امید جگا رہے ہیں جو ختم ہونے والی ہے۔
کرنسی کا قضیہ

آزادی کے بعد بھی سکاٹ لینڈ پاؤنڈ ہی کو بطور کرنسی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور آزادی کے حامیوں کے خیال میں یہ سب کے بہترین مفاد میں ہے۔
لیکن برطانیہ کی تین مرکزی جماعتیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیمو کریٹس اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتحابات میں جو بھی جماعت بر سرِ اقتدار آئے گی وہ بھی اس اقدام کی اجازت نہیں دے گی۔
یہ فیصلہ برطانیہ کی وزراتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اس جائزے کے بعد کیا گیا ہے جس میں ان تمام وجوہات کا احاطہ کیا ہے جس سے کرنسی کے اتحاد کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
کیا سکاٹ واقعی آزادی چاہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty
گو کہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ نسبتاً زیادہ لوگ آزادی کے حق میں ہیں لیکن پھر بھی اس وقت قطعی طور پر کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔
رائے عامہ کے عمومی رجحان سے اشارہ ملا ہے کہ لوگ آزادی نہیں چاہتے لیکن اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اب حالات ان کے ساتھ ہیں۔
سنڈے ٹائمز کے اتوار کے YouGov سروے کے مطابق 51 فیصد لوگ آزادی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 49 فیصد لوگ اس کے مخالف ہیں۔
ووٹ کون کون دے سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
سکاٹ لینڈ میں مقیم 16 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا براہ راست حق حاصل ہو گا۔ اس کے لیے ان کا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔
اس کے لیے کچھ ضروریات بھی ہوں گی۔ ووٹروں کا برطانوی شہری ہونا یا یورپی یونین کا ممبر، یا دولتِ مشترکہ کا شہری ضروری ہے جنھیں برطانیہ میں داخلے اور رہائش کی اجازت حاصل ہو۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے آٹھ لاکھ سکاٹش شہری ووٹ نہیں دے سکتے تاہم برطانیہ کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ چار لاکھ شہری جو سکاٹ لینڈ میں مقیم ہیں، ووٹ دے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مسلح افواج کے لوگ اور ان کے خاندان والے بھی ووٹ دے سکتے ہیں جن کا ووٹ رجسٹرڈ ہے لیکن وہ ملک سے باہر مقیم ہیں۔
19 ستمبر کو کیا ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ریفرینڈم کے اگلے روز اگر جواب ہاں میں ہوا تو سکاٹش حکومت جشن منائے گی اور اس کے بعد وہ باقی ماندہ برطانیہ سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے گی۔
مسٹر سیمنڈ مارچ سنہ 2016 میں یوم آزادی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جب آزاد سکاٹش پارلیمان کے لیے پہلی بار انتخابات کرائے جائیں گے۔ لیکن اس سے قبل باقی ماندہ برطانیہ کے ساتھ قومی قرض میں سکاٹ لینڈ کے حصے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
لیکن اگر ریفرینڈم میں لوگوں نے زیادہ تعداد میں نہیں کے حق میں ووٹ دیا تو برطانوی حکومت کی جانب سے بڑے جشن کا امکان ہے۔ اس کے بعد وہ سکاٹش پارلیمان کو مزید اختیار دینے کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرے گی۔
لبرل ڈیموکریٹس اس مسئلے پر ایک عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں اور سابق رہنما سر مینزیز کیمبیل کی قیادت والے ایک کمیشن کا کہنا ہے یونین کی حامی جماعتوں میں اس بات پر زیادہ رضامندی ہے کہ ایڈنبرا پارلیمنٹ کو وصول کرنے کی زیادہ ذمے داری جیسے اہم مالی اختیارات دیے جانے چاہیے۔







