برطانیہ سکاٹ لینڈ کے بغیر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, نِک ایرڈلی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے لیے ریفرینڈم چند ہفتے کے فاصلے پر ہے اور باقی برطانیہ کے لوگ اس بارے میں اب بات کر رہے ہیں۔
ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد قائم رہے جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کو اپنے راستے پر چلے جانا چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ انگلینڈ ویلز اور آئرلینڈ کے لوگ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
پروفیسر سٹفن ہاکنگز، ٹی وی میزبان دوینا میک کال، کامیڈین رسل برینڈ اور گلوکار موریسی میں مشترک ہے؟ یہ سب اس ریفرینڈم کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں۔
پروفیسر سٹیفن ہاکنگز اور دوینا میک کال نے متحد رہنے کے حق میں لکھے گئے کھلے خط پر دستخط کیے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں رسل برینڈ کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی ’ایک اچھا خیال‘ ہے جبکہ موریسی نے کہا کہ سکاٹ لینڈ کو برطانیہ کے ساتھ ’تعلقات منقطع‘ کر لینے چاہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اب اس کے کوئی معین اعداد و شمار تو نہیں مگر سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سالمنڈ جو آزادی کے حامی ہیں اور الیسٹر ڈارلنگ جو اتحاد کے حامی ہیں کے درمیان ٹی وی کے مباحثے کو انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں 15 لاکھ افراد نے دیکھا۔
ٹوئٹر پر اس مباحثے کے دوران سکاٹ لینڈ کے باہر بہت گرما گرم بحث جاری رہی جبکہ برطانوی اخبارات کے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ اس ریفرینڈم کی کوریج میں سکاٹ لینڈ سے باہر دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
اخبار دی سن کے سیاسی نامہ نگار کیوِن شوفیلڈ کے مطابق اس کی وجہ ریفرینڈم کا قریب آنا ہے جبکہ یونیورسٹی آف لیڈز کے سٹورٹ مک اینولا کے مطابق ’جوں جوں ریفرینڈم قریب آ رہا ہے توں توں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے خاص طور پر بعض ایسے معاملات کے حوالے سے جو سارے برطانیہ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘
کیوِن شوفیلڈ نے کہا کہ ’ہاں کا ووٹ (برطانیہ سے آزادی) کے حق میں ووٹ ایک نامعلوم حدود کی جانب سے سفر ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کافی لوگ اس کے اثرات سے بہت زیادہ واقف ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کا ایک اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد برطانیہ کو اپنے دوسرے حصوں کے ساتھ تعلقات کے توازن کو دوبارہ دیکھنا پڑے گا۔
گلاسگو میں مقیم ایک آئرش صحافی پیٹر جیوگھن نے بتایا کہ ’یہ ساری بحث شمالی آئرلینڈ کے عوام کے لیے برطانیہ کے باقی حصوں کے لیے بہت دلچسپی کا باعث ہے۔ دونوں ممالک ک تعلقات صدیوں پر محیط ہیں جس میں سکاٹ لینڈ کے کئی رہائشی آئرلینڈ سے آئے ہیں اور ان کی بڑی آبادیاں سکاٹ لینڈ میں آباد ہیں۔‘
ان کے خیال میں اس کے نتیجے میں آئرلینڈ کے قوم پرستوں کے موقف اور ایک متحدہ آئرلینڈ کے مطالبے کو مزید تقویت ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ویلز میں یونیورسٹی آف کارڈِف کے ویلز گورننس سینٹر کی ربیکہ رمبل کا کہنا ہے کہ یہاں لوگ ریفرینڈم کے بارے میں ’مختلف قسم کے جذبات‘ رکھتے ہیں۔ ویلش لوگوں کے لیے ان کے انگلینڈ کے ساتھ تعلقات زیادہ اہم موضوع ہے اور وہ شاید سکاٹ لینڈ میں ہونے والے واقعات کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔
تاہم پلائیڈ کمری کی رہنما لیین ووڈ نے کہا کہ سکاٹ لینڈ میں ہاں کے حق میں ووٹ کے نتیجے میں ’برطانیہ کی ٹیکٹانک پلیٹس ہل جائیں گی‘ ان کی جماعت اس کے بعد اپنی توجہ ترجیحات تبدیل کرے گی۔







