سکاٹ لینڈ کا مستقبل کیا ہو گا

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سیمنڈ نے سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کا منصوبہ شائع کیا ہے جس میں وعدہ کیاگیا ہے کہ اگر لوگوں نے سکاٹ لینڈ کی آزادی کے حق میں ووٹ دیا تو ان کے ملک میں سماجی انقلاب برپا ہو جائے گا۔
ایلکس سیمنڈ نے منگل کے روز 649 صفحات پر مبنی وائٹ پیر میں آزاد سکاٹ لینڈ کا تصور پیش کیا۔
اگلے برس ستمبر میں سکاٹ لینڈ میں ایک ریفرینڈم ہونا طے ہے جس میں لوگوں سے پوچھا جائےگا کہ کیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ملک ہونا چاہیے؟

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلکس سیمنڈ کی جماعت سکاٹش نیشنل پارٹی آزاد سکاٹ لینڈ کی حامی ہے۔
برطانیہ کو متحد رکھنے کی مہم ’بیٹر ٹوگیتھر‘ کے سربراہ اور سابق وزیر خزانہ ایلسٹر ڈارلنگ کا کہنا ہے کہ وائٹ پیپر افسانوی اور بے معنی مفروضوں پر مبنی ہے۔
وائٹ پیپر کا اجرا کرتے ہوئے ایلکس سیمنڈ نے کہا کہ یہ دستاویز نہ صرف سکاٹ لینڈ بلکہ آزادی چاہنے والے کسی بھی ملک کے لیے ایک جامع دستاویز ہے۔
انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ آزاد دنیا کا رکن بننا چاہتا ہے اور سکاٹ لینڈ کو آزاد ملک بنوانے کا مقصد اسے پہلے سے بہتر بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں معاشی ناہمواری انتہائی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے۔
ایلکس سیمنڈ نے وعدہ کیا کہ آزاد سکاٹ لینڈ میں چار سال کی عمر تک بچوں کی نگہداشت کےلیے ہفتے میں 30 گھنٹوں کی چائلڈ کیئر کی سہولت مہیا کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایلکس سیمنڈ نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ سکاٹ لینڈ کو کامیاب ریاست بنانے کے لیے ان کے پاس لوگ، ہنر اور وسائل موجود ہیں۔انھوں نے کہا: ’ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہمارے پاس معاشی طاقت ہو تاکہ ہم سکاٹ لینڈ کو ایک متحرک ملک میں تبدیل کر سکیں جہاں لوگوں کو روزگار کے مزید مواقع مہیا ہوں۔‘
ایلسٹر ڈارلنگ نے کہا کہ ان اہم سوالوں کا جواب اس وائٹ پیپر میں نہیں ملتا کہ نئے ملک کی کرنسی کونسی سے ہو گی، ہمارے قرضوں کے ریٹ کون متعین کرے گا، ہمارے ٹیکس کتنے بڑھیں گے، ہم اپنی پنشن کیسے ادا کریں گے۔
ایلسٹر ڈارلنگ نے کہا کہ یہ بات غیر حقیقی ہے کہ سکاٹ لینڈ برطانیہ کو چھوڑ کر آزاد ملک بن جائے لیکن برطانیہ کا ممبر ہونے کے فوائد بھی لیتا رہے۔’یہ بات حقیقی نہیں افسانوی ہے۔‘
سکاٹ لینڈ نیشنل پارٹی کے منشور کا حصہ ہے کہ آزاد سکاٹ لینڈ جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ ہوگا اور وہ کلائیڈ میں موجود ٹرائیڈینڈ جوہری ہتھیاروں کو وہاں سے نکلوا دے گا۔
البتہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کےنقادوں کا کہنا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے علیحدہ بھی ہوگیا توہ نیٹو کا ممبر ہونے کے ناطے جوہری ہتھیاروں کو اپنے ملک سے نہیں ہٹوا سکے گا۔







