سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم میں سخت مقابلہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں ریفرنڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں اس قدر شدید مقابلہ ہے کہ ریفرنڈم کے نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔
علیحدگی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہوا کا رخ ان کے ساتھ ہے جب کہ مخالفین کا خیال ہے کہ وہ بازی لے جائیں گے۔
ریفرنڈم میں دو ہفتے قبل عوامی رائے عامہ کے جائزے کے مطابق علیحدگی پسندوں کو اس دوڑ میں معمولی برتری حاصل ہے۔
اس جائزے کے سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیرِ خزانہ جارج اوسبرون نے وعدہ کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو مزید اختیارات دینے کے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔
سکاٹ لینڈ کے وزیر اعلی ایلکس سالمنوڈ نے جارج اوسبرون کے بیان کو افراتفری میں پیش کی جانے والی رشوت قرار دیا ہے جب ہزاروں لوگوں نے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے پہلے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ1
ریفرنڈم کی مہم ختم ہونے سے گیارہ دن پہلے فریقین غیر یقینی کا شکار ووٹروں کو قائل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
ستمبر کی 18 تاریخ کو سکاٹ لینڈ کے شہری سکاٹ لینڈ کی آزادی کے بارے میں سوال کا ہاں یا نہ میں بیلٹ کے ذریعے جواب دیں گے۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے لیے کیے گئے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق 51 فیصد افراد نے اپنا ذہن بنا لیا اور وہ آزادی یا علیحدگی کے حق میں ہیں جب 49 فیصد نہ میں ووٹ دینے کی نیت رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جائزے میں 1084 افراد سے ستمبر کی دو سے پانچ تاریخ کے درمیان بات کی گئی اور یہ پہلا سروے ہے جس میں علیحدگی کے حامیوں کی برتری ظاہر ہوئی ہے۔
’سانجھے میں بہتری‘ کے نام سے علیحدگی کے خلاف چلائی جانے والی کثیر الجماعتی مہم کو اس سے قبل کیے جانے والے سروں میں برتری حاصل تھی۔
ایک اور سروے کے نتائج کے مطابق علیحدگی کے مخالفین 52 فیصد ہیں جب کے علیحدگی کے حق میں 48 فیصد لوگ ہیں۔







