’سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کے مخالف پریشان نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے ممکنہ علیحدگی کی مخالفت کرنے والی مہم ’بیٹر ٹوگیدر‘ (ساتھ رہنے میں بہتری ہے) کے سربراہ نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ان کے اس مطالبے کہ سکاٹ لینڈ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کا ٹائم ٹیبل کیا ہوگا، کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی صفوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
مہم کے سربراہ ایلِسٹر ڈارلنگ نے یہ بیان اس وقت جاری کیا ہے جب ایک تازہ ترین جائزے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو سکاٹ لینڈ کو برطانیہ کے ساتھ ملحق رہتے دیکھنا چاہتے ہیں ان کی سبقت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبرون نے چند دن پہلے کہا تھا کہ اگر سکاٹ لینڈ کے رائے دہندگان 18 ستمبر کے ریفرینڈم میں علیحدگی کی تجویز کو رد کر دیتے ہیں تو برطانوی حکومت آنے والے ماہ و سال میں سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات منتقل کرنے کا ایک منصوبہ یا نظام اولاقات پیش کر سکتی ہے۔
لیکن علیحدگی کی حامی سب سے بڑی جماعت سکاٹش نیشنل پارٹی نے وزیر خزانہ کی اس پیشکش کو مرکزی حکومت کی جانب سے ’رشوت‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر کی 18 تاریخ کو سکاٹ لینڈ کے شہری سکاٹ لینڈ کی آزادی کے بارے میں سوال کا ہاں یا نہ میں بیلٹ کے ذریعے جواب دیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیٹر ٹوگیدر کے سربراہ ایلِسٹر ڈارلنگ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ریفرینڈم میں مقابلہ بڑا کانٹے کا ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ہاں کوئی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں واقعی سکاٹ لینڈ کے رائے دہندگان کا ہر ووٹ بہت اہم ہو چکا ہے کیونکہ ایک ووٹ بھی ریفرینڈم میں پانسہ پلٹ سکتا ہے۔
’لیکن مجھے یقین ہے کہ جیت ہماری ہو گی کیونکہ ہمارا نقطۂ نظر بہت واضح ہے کہ سکاٹ لینڈ کو برطانیہ کے ساتھ رہنے میں کیا مواقع اور تحفظ دستیاب ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکاٹ لینڈ کے مستقبل کے بارے میں ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر شدید ہے کہ ریفرینڈم کے نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
علیحدگی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہوا کا رخ ان کے ساتھ ہے جب کہ مخالفین کا خیال ہے کہ بازی وہ لے جائیں گے۔
ریفرینڈم میں دو ہفتے قبل عوامی رائے عامہ کے جائزے کے مطابق علیحدگی پسندوں کو اس دوڑ میں معمولی برتری حاصل تھی۔
اس جائزے کے سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیرِ خزانہ جارج اوسبرون نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے چند دنوں میں سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو مزید اختیارات دینے کے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔
ریفرینڈم کی مہم ختم ہونے سے دس دن پہلے فریقین غیر یقینی کے شکار ووٹروں کو قائل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے لیے کیے گئے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق 51 فیصد افراد نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور وہ آزادی یا علیحدگی کے حق میں ہیں جب 49 فیصد نہ میں ووٹ دینے کی نیت رکھتے ہیں۔







