کرائمیا کا ریفرینڈم غیرقانونی تھا:جنرل اسمبلی

،تصویر کا ذریعہAP
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کرائمیا میں ہونے والے اس ریفرینڈم کو غیرقانونی قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں کرائمیا کے روس سے الحاق کی منظوری دی گئی تھی۔
یوکرین کے جنوبی جزیرہ نما خطے کرائمیا کو روسی فیڈریشن کا حصہ بنائے جانے پر روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں۔
مغربی ممالک نے روس کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور بدھ کو ہی امریکی صدر براک اوباما نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یوکرین کی خود مختاری کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنرل اسمبلی میں جمعرات کو پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں ایک سو ممالک نے ووٹ دیا جبکہ اس کی مخالفت میں 11 ووٹ آئے جبکہ 58 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
ووٹنگ کے بعد یوکرین کے وزیرِ خارجہ آندرے ڈیشچتسیا نے کہا کہ ’دنیا کے تمام کونوں سے یہ حمایت ملی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاملہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہnon
تاہم اقوامِ متحدہ میں روس کے مندوب ویٹالی چورکن کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت کہ جنرل اسمبلی کے تقریباً نصف ارکان نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی، بہت حوصلہ افزا رجحان ہے اور میرے خیال میں یہ رجحان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔‘
نیویارک میں بی بی سی کے نک برائنٹ کے مطابق چونکہ اس قرارداد کے نتائج پر عملدرآمد لازمی نہیں اس لیے اس کی حیثیت علامتی ہی ہے تاہم یوکرین کو امید ہے کہ یہ قرارداد ایک رکاوٹ کا کام کرے گی اور روس کو اس کے مزید علاقوں میں دخل اندازی سے روکے گی۔
ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے یوکرین کو 14 سے 18 ارب ڈالر بطور قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یوکرین کی معیشت کو سنبھالنے اور اس کے عوام کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں اہم پیشرفت ہے۔
خیال رہے کہ یوکرین نے عبوری وزیراعظم آرسینی یتسینیوک نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ ملک ’اقتصادی اور مالیاتی دیوالیہ پن‘ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔







