یوکرین کا اپنی فوج کو کرائمیا سے نکلنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہUNIAN
یوکرین کے نگران صدر الگیزنڈر ترچنوف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی مسلح افواج کو کرائمیا سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ فوجی عملے اور ان کے خاندانوں کو روس کی طرف سے دھمکیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
روسی فوج نے کرائمیا میں یوکرین کے اکثر فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس سے پہلے مارچ میں ہی کرائمیا میں ریفرینڈم کے بعد روس نے اسے اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا جسے یوکرین نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ ’قومی سکیورٹی اور دفاعی کونسل نے وزارتِ دفاع سے ہدایات ملنے پر کرائمیا میں تعینات فوج کو دوسری جگہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوجیوں کے خاندانوں کو بھی وہاں سے منتقل کیا جائے گا۔
یوکرین کی طرف سے کرائمیا سے فوج نکالنے کا اعلان ایسے وقت میں ہوا جب روسی فوجیوں نے کرائمیا کے علاقے میں ان کے ایک بحری اڈے فیودوسیا پر قبضہ کر لیا۔
یوکرین کے وزیر دفاع ولادی سمفروپول نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ روسیوں نے ان کے بحری اڈے پر دو طرف سے حملہ کیا جس میں انھوں نے خودکار اسلحے اور گرینیڈز کا استعمال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ روسی فوجیوں نے یوکرین کے فوجیوں کو گھیر لیا اور ان کے افسروں کے ہاتھ باندھ دیے۔
واضح رہے کہ روس نے کرائمیا میں یوکرین کے زیادہ تر فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ اس خطے میں اپنی گرفت مضبوط کرتا جا رہا ہے
کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپولو میں بی بی سی کے نمائندے مارک لوین نے بتایا کہ کرائمیا میں فیودوسیا کا بحری اڈہ ان آخری فوجی اڈوں میں شامل تھا جو کیئف کے کنٹرول میں تھا لیکن پچھلے کچھ دنوں سے اسے روسی فوجیوں نے محاصرے میں لے رکھا تھا۔
اس سے قبل جمعے کی رات کو دو دوسرے فوجی اڈوں پر حملہ کر کے قبضے میں لے لیا گیا تھا۔







