كرائميا ہمیشہ سے روس کا ہی حصہ رہا ہے: پوتن

پوتن نے کرائمیا کو’خودمختار اور آزاد ریاست‘ کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر بھی دستخط کیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپوتن نے کرائمیا کو’خودمختار اور آزاد ریاست‘ کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر بھی دستخط کیے

روس کے صدر ولادی میر پوتن اور کرائمیا کے رہنماوں نے اس جزیرہ نما کو روس کا حصہ بنانے کے مسودۂ قانون پر دستخط کر دیے ہیں۔

روسی صدر نے روسی پارلیمان کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں كرائميا ہمیشہ روس کا حصہ رہا ہے۔‘ اور یہ ’تاریخی ناانصافی‘ کو درست کیے جانے کے مترادف ہے۔

منگل کو کریملن میں اپنے خطاب میں پوتن نے ارکانِ پارلیمان پر زور دیا کہ وہ کرائمیا کی یوکرین سے علیحدگی اور روس میں شمولیت کی حمایت کریں۔

ادھر یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اس مبینہ آزادی اور کرائمیا کے روسی فیڈریشن کا حصہ بننے کے مبینہ معاہدے کو نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ کبھی کریں گے۔‘

پولینڈ میں موجود امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روس کی کرائمیا میں مداخلت ایک ’فوجی جارحیت‘ ہے اور اس خطے کو روس کا حصہ بنانا ’زمین پر قبضے سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

برطانیہ نے روس کے اس اقدام کے جواب میں ایسے تمام دو طرفہ عسکری تعاون کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جو معاہدوں کا پابند نہیں۔

کرائمیا میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے متنازع ریفرنڈم میں 97 فیصد لوگوں نے یوکرین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

یورپی یونین اور امریکہ نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے روس، کرائمیا اور یوکرین کے سرکاری اہلکاروں اور دیگر افراد پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ ان کے اثاثے بھی منجمد کیے گئے ہیں۔

ولادی میر پوتن نے ٹی وی پر نشر کیے جانے والے خطاب میں کہا کہ ’یہ ریفرینڈم قانونی تھا اور اس کے نتائج قابلِ قبول سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کرائمیا کے عوام نے واضح طور پر اپنی خواہش ظاہر کر دی ہے کہ وہ روس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔‘

یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرینڈم ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب کرائمیا روسی فوجی تسلط کے زیرِ اثر تھا۔ یوکرین نے حالات مزید بگڑنے کے خدشے کے پیشِ نظر ریزرو فوج کی تربیت بھی شروع کر دی ہے۔

اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتن نے ایک حکم نامے پر دستخط کر کے کرائمیا کو’ایک خودمختار اور آزاد ریاست‘ کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

روس کے صدارتی دفتر کے ذرائع نے روس کی طرف سے کرائمیا کو ایک خومختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے کہا کہ’یہ حکم نامہ اس دن سے لاگو ہوگا جس دن اس پر دستخط کیے گئے۔‘

حکم نامے کے متن کے مطابق ’کرائمیا میں 16 مارچ سنہ 2014 کو ہونے والے ریفرنڈم میں میں عوامی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے‘ یہ صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا۔

یہ حکم نامہ جاری ہونے سے کرائمیا کے لیے روس میں شامل ہونے کے لیے راستہ ہموار ہو گیا تھا۔

واضح رہے کہ یوکرین کا کرائمیا علاقہ فروری کے اواخر سے روسی حامی فوجیوں کے قبضے میں ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ یہ روس حامی فوجی ’سیلف ڈیفنس فورس ہیں اور روس کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘