یوکرین: پُرتشدد تصادم، کرائمیا پر ریفرنڈم

،تصویر کا ذریعہn
شمالی یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم سے قبل یوکرین حامی اور روسی حامی رضاکاروں کے مابین خوں ریز تصادم میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔گذشتہ شب دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ ہوئی جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل یوکرین کے علاقے کرائمیا کے بحران کے حل میں روس اور امریکہ ناکام رہے۔
کرائمیا یوکرین کے جنوب میں واقع ایک خود مختار علاقہ ہے جہاں ماسکو اپنی فوجی گرفت کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ یہاں کے باشندے ایک ریفرنڈم کے ذریعےاس بات کا فیصلہ کرنے والے ہیں کہ آیا وہ روس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا پھر یوکرین کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ کرائمیا کے شہری اتوار کو ووٹ ڈالیں گے۔ روس کا کہنا تھا کہ وہ ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرے گاجبکہ امریکہ کا کہنا کہ یہ ریفرنڈم غیر قانونی ہے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سنیچر کو امریکہ کی مجوزہ قرارداد پر ووٹ کرنے والی ہے جس میں کرائمیا کے ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا گيا ہے۔
دوسری جانب آئندہ ہفتے امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن پولینڈ اور لتھوانیا کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ یوکرین کی خود مختاری کی حمایت کے بارے میں بات چیت کریں گے اس کے علاوہ نیٹو کے رکن ممالک سے دفاعی معملات پر بات کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
اس کے علاوہ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ کرائمیا کے بحران کے سبب اپنے جنگی بیڑے کو مجوزہ مدت کے بعد بھی کئی دنوں تک بحر روم میں رکھیں گے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ روس نے فوجی ٹرکیں اور متعدد جنگی سازوسامان شمالی کرائمیا بھیج دیا ہے اور یوکرین کے سرحدی محافظوں کرائمیا سے یوکرین آنے والی ریل گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق تشدد کے واقعات خرکیف کے سووبودا سکوائر میں جمعے کی شام کو شروع ہوئے جو بعد میں یوکرین حامی گروپ کے ایک دفتر تک پہنچ گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ روس حامی کارکنون نے مخالف مظاہرین پر حملہ کردیا حالانکہ ان لوگوں نے خود کو بیریکڈ کے اندر رکھا ہوا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق وہاں فائرنگ کی گئی اور مولوٹو کی بوتلیں پھینکی گئیں۔
یوکرین میڈیا کے مطابق خرکیف کی میئر ہناڈیا کرنیس نے دو افراد کی موت اور پانچ لوگوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جبکہ خرکیف کے گورنر آئہور بلوتا نے اس واقعے کو اشتعال انگیز قرار دیا۔
دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا ہے جبکہ اس معاملے میں مجرمانہ جانچ جاری ہے۔







