یوکرین بحران: امریکہ اور روس میں بات چیت

دونوں رہنماوں کی ملاقات سے پہلے امریکی صدر نے اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں یوکرین میں عالمی مبصرین بھیجے کی تجویز دی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندونوں رہنماوں کی ملاقات سے پہلے امریکی صدر نے اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں یوکرین میں عالمی مبصرین بھیجے کی تجویز دی

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کی یوکرین کے بحران پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے اہم ملاقات ہو رہی ہے۔

امریکہ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں اپنے فوجی تعینات کر رہا ہے اور اسے ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے جبکہ روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جزیرہ نما کرائمیا کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق روسی فورسز نے یوکرین کے میزائل یونٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف پیرس میں لبنان کے مسئلے پر منعقدہ کانفرنس کے دوران ملاقات کریں گے۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار بریجٹ کینڈال کے مطابق اب اس کانفرنس کو یوکرین کے معاملے پر بات چیت شروع کرنے کے موقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ نے کرائمیا میں روسی فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے کرائمیا میں روسی فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر اوباما نے روس سے کہا ہے کہ وہ کرائمیا میں موجود اپنے فوجیوں کو خطے میں موجود بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے پر واپس بلا لے اور یوکرین میں عالمی مبصرین بھیجے جائیں جو وہاں کے رہائشی روسیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

امریکی صدر کے دفتر کے اہلکار کے مطابق صدر اوباما نے سنیچر کو اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں اس منصوبے سے مطلع کیا تھا اور منگل کو انھوں نے اس بارے میں جرمن چانسل انگیلا میرکل سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔

روس کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوتن کو یہ تجویز ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بظاہر کرائمیا روس کے کنٹرول میں ہے۔

اسی دوران روسی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کی شب بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

روسی حکام کے مطابق میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروسی حکام کے مطابق میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا

منگل کو روسی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق ایک ٹوپول آر ایس 13 ایم میزائل کو مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر دس منٹ پر بحیرۂ کیسپیئن کے قریب واقع کپستن یار تجرباتی رینج سے قزاقستان میں واقع ساری شگن رینج کی جانب داغا گیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے اس تجربے کے بارے میں پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔ امریکی محکمۂ دفاع کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بارے میں ہفتے کے آغاز پر بتایا گیا تھا۔ یہ غیرمتوقع عمل نہیں تھا۔‘

روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقاصد ملک کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا اور مذکورہ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق اگرچہ اس قسم کے تجربات کا منصوبہ بہت پہلے بنایا جاتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے منگل کو ہی یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں روس کی جانب سے فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا تھا۔

کرائمیا میں مسلح افراد اور شہری روسی فوجیوں کی بجائے یوکرین کے فوجی اڈوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں: صدر پوتن

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکرائمیا میں مسلح افراد اور شہری روسی فوجیوں کی بجائے یوکرین کے فوجی اڈوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں: صدر پوتن

امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ روسی صدر کے اس دعوے پر کسی کو یقین نہیں کہ ابھی یوکرین میں روسی فوج نہیں بھیجی گئی اور روس کو کرائمیا میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

منگل کو یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں ملک کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی کہا کہ یوکرین نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس، كرائميا میں روسی زبان بولنے والے لوگوں کو بچانے کی بات کرتا ہے جو دراصل اس کا ایک بہانہ ہے۔

خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے کرائمیا میں روسی بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والے لوگ اگر روس سے مدد مانگیں گے تو ماسکو کو اس پر جواب دینا ہو گا تاہم ابھی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اس پر واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ كرائميا میں روس کے فوجیوں کی موجودگی روسی شہریوں کے لیے خدشات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ’روس ہمسایہ ملک پر دباؤ ڈالنے کے لیے غیرقانونی طور پر طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں کو ابھی تک یوکرین میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم روس کو مشرقی یوکرین میں شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔