یوکرین: ’کرائمیا پر حملے کی روسی دھمکی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ روسی فوجوں نے کرائمیا میں تعینات یوکرینی فوجیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ منگل کی صبح تک ہتھیار پھینک دیں یا حملے کے لیے تیار ہو جائیں۔
یوکرین کے دفاعی ذرائع کے مطابق روس کی جانب سے یہ دھمکی بحیرہ اسود میں موجود روسی بحری بیڑے کے سربراہ الیگزینڈر وِکٹر نے دی ہے، لیکن خبر رساں ادارے ’انٹرفیکس‘ کے مطابق روسی بحری بیڑے کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوئی الٹی میٹم نہیں دیا ہے۔
امریکہ دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر روس کی جانب سے یوکرینی فوج کو ہتھیار ڈالنے یا پھر حملے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی ہے تو یہ کرائمیا کے حالات کے تیزی سے بگڑنے کی نشانی ہے۔
مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا پر اپنا عسکری کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روسی فوجی کرائمیا میں فوجی اڈوں اور دوسری تنصیبات کو اپنے قابو میں کر رہے ہیں۔
روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں روسی شہریوں اور انسانی حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔
پیر کو جنیوا میں روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ روس نواز صدر وِکٹر یانوکووچ کے اقتدار سے ہٹا دیے جانے کے بعد روس یوکرین میں محض اپنے مفادات اور روسی بولنے والے یوکرینی شہریوں کا تحفظ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یوکرین میں سیاسی حالات معمول پر نہیں آ جاتے، وہاں روسی فوجوں کی ضرورت ہے۔‘
دنیا کے سب سے بڑے آٹھ صنعتی ممالک کے گروپ (جی ایٹ) کے سات ممالک نے کرائمیا میں روسی فوجوں کی کارروائیوں پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ’یوکرین کی خود مختاری‘ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ادھر یوکرین کی حکومت نے اپنی فوجوں کو پوری طرح تیار رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور مغربی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔ دارالحکومت کیئف اور اس کے گر ونواح میں ہزاروں رضاکاروں نے یوکرین کو بچانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے نام درج کروانا شروع کر دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوکرین میں فوجیں بھیجنے کے اقدام کے بعد ماسکو میں حصص کے کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جہاں پیر کی صبح ہونے والے کاروبار میں ’ماسیکس‘ انڈکس میں نو فیصد کمی دیکھنی میں آئی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روسی روبل کی قیمت میں واضح کمی ہوئی ہے اور روبل حالیہ دنوں میں اپنی کم ترین قیمت تک گر گیا ہے۔ اس کے علاوہ روس کے سرکاری بینک نے سود کی شرح 5.5 سے بڑھا کر سات فیصد کر دی ہے۔
کرائمیا کے علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لووِن نے بتایا ہے کہ اگرچہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی لیکن عملی طور پر کرائمیا پر روس کا کنٹرول ہے۔
ان کے مطابق یوکرین کے دو بڑے فوجی اڈے روسی فوجیوں کے گھیرے میں ہیں اور ہوائی اڈوں سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر روسی فوجیوں کا قبضہ ہے۔ سنیچر کے بعد سے روس سے ہزاروں فوجیوں کی آمد کے بعد کرائمیا میں یوکرینی فوجی اقلیت میں ہو گئے ہیں اور کرائمیا سے ملک کے دیگر علاقوں میں جانے والی بڑی شاہراہوں پر روسی فوجی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
سرحد پر تعینات یوکرینی فوجیوں کی اطلاعات کے مطابق روس اور کرائمیا کے درمیان آبی راستے کے دوسری جانب روسی سرحد کے اندر بکتربند گاڑیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
اس سے قبل یوکرین کے حال ہی میں تعینات کیے گئے بحریہ کے سربراہ نے غیر تسلیم شدہ روس نواز سربراہ کی موجودگی میں کرائمیا سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا تھا۔
نیٹو کے سربراہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ علاقے سے اپنے فوجی نکال لیں۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اقدامات کے باعث یورپ میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ ہے۔
اس کے علاوہ امریکی ذرائع کے مطابق وزیرِ خارجہ جان کیری منگل کے روز یوکرین کے بحران کے پیشِ نظر دارالحکومت کیئف کا دورہ کریں گے۔
اس سے قبل یوکرین کے خطے کرائمیا میں روسی فوج کی تعداد میں اضافے کے جواب میں یوکرین نے اپنی فوج کو متحرک کر دیا تھا جبکہ یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک ’تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘







