کرائمیا بحران: امریکہ کی روس کو تنبیہ

روس نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا

امریکہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ کرائمیا کے ساتھ الحاق کرکے وہ اس کے ساتھ سفارتکاری کے دروازے بند کر دے گا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے کہا ہے کہ کرائمیا درحقیقت یوکرین کا حصہ ہے اور ماسکو کو یہاں فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

دریں اثنا امریکی صدر براک اوباما اس بڑھتے ہوئے بحران پر عالمی رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔

ایسا کرائمیا سے بین القوامی مبصرین کو واپس بھیجے جانے اور ان کے لیے تبیہی فائر کیے جانے کے بعد کیا جا رہا ہے۔

یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ادارے کے اہلکاروں کو کرائمیا میں داخل ہونے سے روکا گیا ہو۔ علاقے پر اب روس کی حامی فورسز کا کنٹرول ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ بحران کے باعث امریکہ اور روس کے باہمی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجان کیری کا کہنا تھا کہ بحران کے باعث امریکہ اور روس کے باہمی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماسکو کرائمیا کے خطے میں اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے اور یہاں روسی کی حمایتی فورسز نے 16 مارچ کو ایک ریفینڈم کا اعلان کیا ہے جس میں یوکرین سے علیحدگی اور روس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکار کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے روسی وزیڑے خارجہ سرگے لاوورف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی۔

’انہوں (جان کیری) نے یہ واضح کیا ہے کہ کرائمیا میں فوج کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اشتعال انگریزی اور کرائمیا کے روس سے ساتھ الحاق سے متعلق اقدامات کر کے روس مسئلے کے سفارتی حل کے لیے راستے بند کر دے گا۔‘

سرگے لاوروف نے جان کیری کو متنبہ کیا کہ روس کے کرائمیا میں اقدامات کی وجہ سے اگر اس پابندیاں لگائی گئیں تو ان کے نتائج پابندیاں لگانے والوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

روس نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔

مصنوعی بحران

اس سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کا بحران ’مصنوعی‘ ہے اور اسے خطے کی سیاست کے تناظر میں پیدا کیا گیا ہے۔

انھوں نے روس کے یوکرین کی عبوری حکومت سے رابطوں کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ کیئف دائیں بازو کے قدامت پسندوں کے زیرِ اثر ہے۔

سرگے لاوروف نے کہا کہ روس یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت ’ایمانداری اور کسی ساتھی سے ہونے والی بات چیت جیسی ہو۔‘

ادھر یوکرین کے عبوری وزیرِ خارجہ آندرئ ڈیشچیتسیا نے کہا ہے کہ وہ روس کے بات چیت پر رضامند ہونے کے لیے پرامید ہیں۔

سنیچر کو کیئف میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے روسیوں سے بیٹھ کر بات نہیں کی ہے لیکن ہم انہیں اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس کی پوزیشن حتمی نہیں ہے۔ وہ ان تجاویز کو قبول کر رہے ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں، اس لیے کچھ امید موجود ہے۔‘

روس یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے:سرگے لاوروف

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے:سرگے لاوروف

تاہم انھوں نے یوکرینی حکومت کی تجاویز کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں۔.

روسی فوج نے یوکرین کے روس نواز صدر کی معزولی کے بعد سے نیم خودمختار جزیرہ نما کرائمیا کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔ امریکہ نے اسے روس کی ’جارحیت‘ قرار دیا ہے اور فوج واپس نہ بلانے پر روس کو سفارتی و اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

کرائمیا کی پارلیمان نے روس سے الحاق کے لیے علاقے میں 16 مارچ کو ریفرینڈم منعقد کروانے کا اعلان بھی کیا ہے تاہم یوکرین، امریکہ اور یورپی ممالک نے اس عمل کو عالمی قانون کی خلاف ورزی اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔